ہفتہ، 23 مارچ، 2019



ہماری ایک غزل آپ دوستوں کے پیش نظر ۔


دل گرفتہ ہوا میں تجھ سے ملاقات کے بعد
روح بیکل ہی رہی گزرے وہ لمحات کے بعد

یوں تو دشمن تھے مرے سارے زمانے کے خدا
میں تو رسوا ہوا تجھ سے ہوئی اُس مات کے بعد

بےرخی سے تری یہ پایا ہے میں نے انعام
میں تو بے فیض رہا تجھ سے ملاقات کے بعد

جس پہ ہو جاتا فدا کوئی بھی ایسا نہ ملا
نہ تری ذات سے پہلے نہ تری ذات کے بعد

تیرا کہنا تھا کہ دن ایک سے ہوتے نہیں سب
زیست کیسے کروں میں گردش حالات کے بعد

یہ مقدر کا لکھا تھا کہ بچھڑ جاؤں میں
دل میں طوفان اٹھاتے ہوئے جذبات کے بعد​

محمد عدنان اکبری نقیبی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں