ملباری ہوٹل
ملباری ہوٹل ایک زمانے میں پاکستان کے شہر کراچی میں عام ہوتے تھے۔ یہاں کی خصوصیت وہ بیرے ہوتے تھے جو آپ کے بیٹھتے ہی ، سر پر پہونچ جاتے اور میلا کچیلا سا رومال جو وہ اپنے کاندھے پر مخصوص انداز میں لٹکاتے تھے۔
وہ لے کر آپ کی ٹیبل کو پوچھتے ، جسے ٹاکی لگانا بھی کہتے ہیں
پھر پوچھتے ساب کیا مانگتا
آپ پوچھیں کہ کھانے میں کیا ہے
تو وہ فر فر رٹا ہوا مینو دھراتے
آلو ہے
بینگن ہے
بھنا ہے
قورمہ ہے
کڑاہی گوشت
دال فرائی
وغیرہ
جب آپ کسی ڈش کا آرڈر دے دیتے
تو وہ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے حساب سے پانی کے گلاس اسطرح کنا روں سے اٹھا کرلاتے
کہ انگلیوں کی پوریں پانی میں ڈوبی ہوئ ہوتیں تھین
اگر کھانے کے بجائے صرف چائے کا آڈر دیا جاتا
تو وہ کچن کی کھڑکی کے پاس جاکر ہانک لگاتے
ساب کو دو چائے مارو
یہ خاص بمبئ کی بولی بولتے
یعنی
چائے مارو
پانی مارو
کھایا پیا کچھ نہین گلاس توڑا
ساب بارہ آنا مارو
ان بیروں اور بس کے کنڈکتروں مین ایک بات مشترک تھی
وہ تھی
ان کی زبردست اور حیرت انگیز یاد داشت
وہ لے کر آپ کی ٹیبل کو پوچھتے ، جسے ٹاکی لگانا بھی کہتے ہیں
پھر پوچھتے ساب کیا مانگتا
آپ پوچھیں کہ کھانے میں کیا ہے
تو وہ فر فر رٹا ہوا مینو دھراتے
آلو ہے
بینگن ہے
بھنا ہے
قورمہ ہے
کڑاہی گوشت
دال فرائی
وغیرہ
جب آپ کسی ڈش کا آرڈر دے دیتے
تو وہ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے حساب سے پانی کے گلاس اسطرح کنا روں سے اٹھا کرلاتے
کہ انگلیوں کی پوریں پانی میں ڈوبی ہوئ ہوتیں تھین
اگر کھانے کے بجائے صرف چائے کا آڈر دیا جاتا
تو وہ کچن کی کھڑکی کے پاس جاکر ہانک لگاتے
ساب کو دو چائے مارو
یہ خاص بمبئ کی بولی بولتے
یعنی
چائے مارو
پانی مارو
کھایا پیا کچھ نہین گلاس توڑا
ساب بارہ آنا مارو
ان بیروں اور بس کے کنڈکتروں مین ایک بات مشترک تھی
وہ تھی
ان کی زبردست اور حیرت انگیز یاد داشت
جس طرح بس کے کنڈکٹر کوپتہ ہوتا تھا کہ
بھری بس میں کس کا ٹکٹ ہوگیا اور
کس کا رہ گیا
اسی طرح بیروں کویاد ہوتا تھا کس نے کیا کھایا
اور اس نے کاؤنتر پر کتنے پیسے دینے ہین
بھری بس میں کس کا ٹکٹ ہوگیا اور
کس کا رہ گیا
اسی طرح بیروں کویاد ہوتا تھا کس نے کیا کھایا
اور اس نے کاؤنتر پر کتنے پیسے دینے ہین
وہ لوگوں کے آرڈر لینے اور دینے کے دوران
ایک نظر کاؤنٹر پر بھی جما کررکھتے
ایک نظر کاؤنٹر پر بھی جما کررکھتے
جیسے ہی گاہک اٹھ کر کئیشیر کے پاس جاتا
جو کہ دروازے کے پاس ہوتا تھا
جو کہ دروازے کے پاس ہوتا تھا
زور سے اعلان کرتےآگے والے ساب سے بارہ آناپیچھے والے ساب سے ڈیڑھ روپیہ ۔
از مسعود قاضی
فیس بک شیئرنگ
