ہفتہ، 30 مارچ، 2019

ملباری ہوٹل


ملباری ہوٹل ایک زمانے میں پاکستان کے شہر کراچی میں عام ہوتے تھے۔ یہاں کی خصوصیت وہ بیرے ہوتے تھے جو آپ کے بیٹھتے ہی ، سر پر پہونچ جاتے اور میلا کچیلا سا رومال جو وہ اپنے کاندھے پر مخصوص انداز میں لٹکاتے تھے۔
وہ لے کر آپ کی ٹیبل کو پوچھتے ، جسے ٹاکی لگانا بھی کہتے ہیں 
پھر پوچھتے ساب کیا مانگتا
آپ پوچھیں کہ کھانے میں کیا ہے
تو وہ فر فر رٹا ہوا مینو دھراتے
آلو ہے
بینگن ہے
بھنا ہے
قورمہ ہے
کڑاہی گوشت
دال فرائی
وغیرہ
جب آپ کسی ڈش کا آرڈر دے دیتے
تو وہ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے حساب سے پانی کے گلاس اسطرح کنا روں سے اٹھا کرلاتے
کہ انگلیوں کی پوریں پانی میں ڈوبی ہوئ ہوتیں تھین
اگر کھانے کے بجائے صرف چائے کا آڈر دیا جاتا
تو وہ کچن کی کھڑکی کے پاس جاکر ہانک لگاتے
ساب کو دو چائے مارو
یہ خاص بمبئ کی بولی بولتے
یعنی
چائے مارو
پانی مارو
کھایا پیا کچھ نہین گلاس توڑا
ساب بارہ آنا مارو
ان بیروں اور بس کے کنڈکتروں مین ایک بات مشترک تھی
وہ تھی
ان کی زبردست اور حیرت انگیز یاد داشت
جس طرح بس کے کنڈکٹر کوپتہ ہوتا تھا کہ
بھری بس میں کس کا ٹکٹ ہوگیا اور
کس کا رہ گیا
اسی طرح بیروں کویاد ہوتا تھا کس نے کیا کھایا
اور اس نے کاؤنتر پر کتنے پیسے دینے ہین
وہ لوگوں کے آرڈر لینے اور دینے کے دوران
ایک نظر کاؤنٹر پر بھی جما کررکھتے
جیسے ہی گاہک اٹھ کر کئیشیر کے پاس جاتا
جو کہ دروازے کے پاس ہوتا تھا

زور سے اعلان کرتےآگے والے ساب سے بارہ آناپیچھے والے ساب سے ڈیڑھ روپیہ ۔

از مسعود قاضی 
فیس بک شیئرنگ

’’حیا نہیں ہے باقی زمانے کی آنکھ میں‘‘


بے راہ روی اور بے حیائی کے فروغ میں ٹی وی کا بڑا کردار ہے، مغرب کی اندھی تقلید او رمذہب سے بیزاری نے ہمیں غلیظ گڑھے میں پھینک دیا ہے۔
ٹیلی و یژن کبھی کسی زمانے  میںگھر بھر کی تفریح کیساتھ دنیا سے جوڑنے کا سبب تھا۔  اب مغرب کی اندھی تقلید  سے معاشرے کے بگاڑ وبربادی کا سبب بن گیا ہے۔ بے راہ روی  بے حیائی کے فروغ میں ٹی وی کا بہت بڑا کردار  ہے۔ جیسے جیسے چینلز کی تعداد میں اضافہ ہوا بے حیائی بڑھتی گئی۔ہمارے حکمران  چونکہ دین بیزار  ہیں اس لئے   میڈیا کا کوئی قبلہ کوئی  قانون نہیں۔ سو شتر بے مہار کی مانند  جس نے   جو چاہا دکھایا ۔ ننگ پن فحاشی کے وہ مناظر  دکھائے جانے لگے جنہیں  تنہائی  میں دیکھتے ہوئے  بھی شرم آجائے۔
 اینکرو کمپیئر کا دوپٹہ جو سر  سے نہ ہٹتا تھا گزرتے وقت کیساتھ   دوپٹہ ہی نہیں حیا بھی کہیں گم ہوگئی۔ اس وقت چند اسلامی چینلز  کے سوا  ہر ٹی وی  چینل  پر عریانی اور فحاشی کو ایسے فروغ دیا جارہا ہے "جیسے یہ کوئی لازمی ڈیوٹی ہو"
 ایک نجی نیوز چینل نے تو جیسے  حیا کا جنازہ ہی  اٹھا دیا ...   "یوگا " ایکسر سائز کے نام پر لائیو  زلالت کی انتہا کردی جسکے  لیے فحاشی بھی بہت ہلکا لفظ ہے۔سو چیئے ہمارا اخلاقی زوال کس مقام پر پہنچ گیا ہے  مغرب کی اندھی تقلید اور مذہب سے بیزاری نے ہمیں اس غلیظ گڑھے میں لا پھینکا ہے کہ اب  اب ہم  مردو خواتین  باہم کی ایسی ایکسرسائز  بھی دیکھیں گے  جو ایکسرسائز کم  سامان لذت  زیادہ ہے۔   بے حیائی کا شرمناک مظاہرہ  صبح مارننگ شو میں دکھایا گیا۔بے حسی کا یہ عالم ہے کہ  اتنی گندگی اتنی بے حیائی  پر  بھی لوگ احتجاج نہیں کرتے۔   ان پروگرامز کے خلاف کوئی آواز نہیں  اٹھتی ۔
ساحر لودھی کے شو ز ہوں یا  مارننگ شوز ڈرامے  بے حیائی عروج پر ہے۔طوائفیں رول ماڈلز ہوگئیں اور  شرعی حدیں قید قرار پائیں۔محرم رشتوں کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔   آزادی کے نام پریہ کس معاشر ے کی تصویر پیش کی جارہی ہے۔ اصول ہے مارکیٹ میں وہی چیز لانچ کی جاتی ہے جسکی مانگ ہوتو کیا  پاکستانی معاشرہ اس حد تک   بے غیرتی  و بے حیائی کی دلدل میں اتر چکا ہے۔ مرد گھر کا سربراہ  ہے لیکن گھر خاندان کے بگاڑ سنوار کی ذمہ دار عورت ہے۔وہ جیسے چاہے گھر کی فضا بنائے ۔ نسلوں کی تربیت عورت کے ہاتھ میں   ہے۔ معاشرہ  عورت  سے بنتا ہے جس سوچ کی حامل عورت ہوگی معاشرہ اسکا عکاس ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ میڈیا نے عورت کو  ہدف بنایا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ صبح کے ان فحش شوز کے  ویورز کون ہیں۔صبح کی نشریات میں کھانا پکانے میک اپ ، فیشن کے نام پر     مارننگ شوز میں  ہماری اقدار  ہماری تہذیب کو ذبح کیا جارہا ہے اور  فحاشی بے حیا ئی کا یہ زہر قطرہ قطرہ کرکے ہماری خواتین کے دل ودماغ میں اتارا جارہا ہے  جو لباس کل تک شب خوابی   کے لئے بھی پہنتے ہوئی لحاظ رکھتی ہونگی کہ  بچے بڑے بھی گھر میں ہوتے  ہیں کہیں اچانک انکی نظر نہ پڑ جائے وہ آج بازاروں میں  انہی باپ، بھائی ،شوہروں کیساتھ گھومتی پھرتی دعوت نظارہ دیتی ہیں ۔
میڈیا نے عورت کو  ایک بازاری  اور جنس کی تسکین کا سامان بنا  دیا ہے۔ میڈیا کا اصل ٹارگٹ  متوسط طبقے کی خواتین  اور نوجوان نسل   ہیں۔یہ اس میڈیا کی ہی تباہ کاریاں ہیں کہ کچھ سال پہلے تک  آٹھ دس سال کی بچیاں جنھیں صرف کھیل کھلونوں اور گڑیوں کی فکر رہتی تھی آج اپنے ساتھی کلاس فیلوز کو  محبت نامہ لکھ رہی ہیں اور والدین کی روک ٹوک  نہ ملنے  دینے پر یہی بچے خود کشی جیسے انتہائی اقدام بھی اٹھالیتے ہیںیا رشتہ نہ ملنے پر مار دیتے ہیں۔
ہم اپنی اسلامی روایات کو بھول چکے ہیں کہ ہم نے خود ہی اپنی تباہیوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔ دوسروں کے انداز و اطوار کو اپنا کر اور اپنے دینی اصولوں و ضوابط کو بھول کر ہم نے اپنے دین ہی کو فراموش کر دیا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے دینی تصور رکھنے والی جماعتیں بھی میڈیا  کی  اس بے غیرتی  بے حیائی  فحاشی پر خاموش ہیں۔ سنتے ہیں  پیمرا  میڈیا  پالیسی کنٹرول کرتا ہے  اگر پیمرا نامی کوئی  ادارہ ہے  تو یہ شوز کیسے آن ایئرآجاتے ہیں۔کیسے بے حیائی کا پرچار عام کیا جارہا ہے۔بے حیائی کے اس سیلاب کے خلاف آواز اٹھا یئے اس سے پہلے کہ فحاشی بے حیائی کا یہ سیلاب ہمارے گھروں ہماری عزتوں کو بھی  بہا کر لے جائے۔
تحریر بشکریہ ۔
سیما سعید۔ کراچی

 اے شریف انسانو !!!!!!!

 ساحر لدھیانوی صاحب کی ایک  انسانیت کے درد سے لبریز نظم 


خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے

ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میّتوں پہ روتی ہے

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی

اس لئے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

برتری کے ثبوت کی خاطر
خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے

جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں
صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں
حاصلِ زندگی خِرد بھی ہے
حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں

آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں

جنگ، وحشت سے بربریّت سے
امن، تہذیب و ارتقا کے لئے
جنگ، مرگ آفریں سیاست سے
امن، انسان کی بقا کے لئے

جنگ، افلاس اور غلامی سے
امن، بہتر نظام کی خاطر
جنگ، بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن، بے بس عوام کی خاطر

جنگ، سرمائے کے تسلّط سے
امن، جمہور کی خوشی کے لئے
جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن، پُر امن زندگی کے لئے

ساحر لدھیانوی

روداد محفلین کراچی چیپٹر کی تیسری ملاقات منعقدہ سولہ مارچ سنہ دو ہزار انیس کی

اردو محفل فورم کے ساتھ گزری ایک شام کی خوبصورت یادیں ۔


ہم نے صبح اٹھتے ہی اللہ کریم کی حمد ثناء کے بعد پکا والا ارادہ کر لیا تھا کہ آج ہم ہر صورت محفلین کے اس بابرکت اجتماع لازمی شریک ہونا ہے ۔دوران ناشتے بیگم صاحبہ کو اپنے دل کے ارادے سے آگاہ کیا ۔
ناشتے سے فراغت پا کر رزق حلال کی جستجو میں گھر سے روانہ ہوئے ،سارا دن ملازمت کا حق ادا کرتے ذہن میں رات کی ملاقات کا خیال زیر گردش ہی رہا ۔شام سات بجے بج کر چالیس منٹ پر اپنے ساتھیوں کو اللہ حافظ کہہ کر گھر کے لیے روانہ ہوئے ،گھر پہنچ کر بیگم صاحب کی خیریت دریافت کر کے دعوت میں جانے کی تیاری شروع کردی۔
ٹھیک آٹھ پینتالیس پر گھر سے جائے ملاقات کی جانب اپنی موٹر سائیکل پر رخت سفر باندھا۔ کئی مقامات پر ٹریفک کے رش سے واسطہ پڑتا رہا اور نیپا چورنگی کے بعد سے الہ دین پارک تک شدید ترین ٹریفک جام تھا ۔خیر جیسے تیسے رستہ بناتے ہوئے منزل مقصود پر پہنچے اور اللہ کریم کا شکر ادا کیا ۔
بلوچستان سجی ہاوس پر شدید رش کو دیکھا کر پہلا خیال جو دل میں آیا کہ یا اللہ کیا ان لوگوں کے گھروں میں کھانا نہیں پکایا جاتا جو اپنی فیملی کے ہمراہ یہاں مزے سے کھانا تناول فرما رہے ہیں ۔ان ہی خیالات کے ساتھ ساتھ تلاش محفلین بھی جاری تھی ۔
ایک تخت پر ہمیں اپنے اردو محفل کے محفلین کی جماعت نظر آئی ۔ہم نے دور سے ہی خالد بھائی کو ہاتھ کا اشارہ کیا مگر شاید دوری ہونے کے سبب خالد بھائی ہمارا اشارہ نہیں دیکھ سکے ۔اس دوران میں ہم نے اپنی موٹرسائیکل پارکنگ میں کھڑی کی اور دوبارہ تصدیق کے لیے خالد بھائی کو اشارہ کیا ،ان اشارے بازیوں میں ہمیں بھیا کا دیدار نصیب ہوا تو ہم اس جماعت میں شمولیت کی غرض سے تخت کی جانب چل پڑے۔
جماعت میں سب سے پہلے فہیم بھائی سے بغل گیر ہوئے پھر شعیب صفدر بھائی ،احمد بھائی ،اکمل بھائی ، بھیا اور خالد بھائی امین بھائی سے سلام دعا کی اور خیریت دریافت کی ۔
بھیا نے تو ہمیں کہی کا نا چھوڑا، ہمارا استقبال طنز کرتے ہوئے یہ کہہ کر کیا کہ آپ تو نہیں آنے والے تھے اور آگئے آپ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں ۔
خیر ہم نے محفل کے آداب کو مدنظر رکھتے ہوئے بھیا کی بات کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر حلق سے اتارا اور محفلین سے گفتگو میں مصروف ہوگئے ۔کچھ دیر بعد سر محمد خلیل الرحمن بھی تشریف لے آئے ۔
اکمل بھائی، بھیا ،امین بھائی ، خالد بھائی اور ہم خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے ۔اس دوران میں سجی ہاوس کے ویٹر نے رائتہ اور سلاد لاکر رکھا ۔بھیا نے تو باتوں کے دوران ہی سلاد کی پلیٹ خالی کر ڈالی اور ہم حسرت سے دیکھے گئے ، بچی ہوئی پیاز سے ہم نے لطف اٹھایا۔دوران گفتگو محفل کے حوالے سے کئی اہم موضوعات زیر گفتگو رہے ۔اس دوران میں م م مغل صاحب کی آمد ہوئی ،تمام احباب نے گرم جوشی سے م م مغل صاحب کو خوش آمدید کہا ۔ابھی م م مغل صاحب کو خوش آمدید کہہ کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ محترم شاہد بھائی المعروف ٹرومین اردو محفل والے بھی تشریف لے آئے ۔دوبارہ سے میل ملاقات کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔اس کے بعد باقاعدہ گفتگو کا آغاز ہوا بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا کہ گفتگو کا سلسلہ جہاں سے رکا تھا وہاں سے ہی دوبارہ جوڑ دیا گیا ۔اس دوران میں ویٹرز گرم گرم کھانے سجانے میں مصروف ہو گئے اور سب محفلین کھانے میں مصروف ہوگئے دوران کھانے بھی ہلکی پھلکی کی تفریح گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا ،کھانے کے بعد خالد بھائی کی جانب سے محفلین کی تواضح کے لیے چائے کا آڈر جاری کر دیا گیا۔چائے آتے ہی مختصر محفل مشاعرے کا آغاز ہو گیا ۔سب سے پہلے م م مغل صاحب نے محفل کا آغاز کرتے ہوئے اپنی عمدہ شاعری سے محفلین کے قلوب کو گرم ڈالا ۔
م م مغل صاحب کے بعد شمع محفل احمد بھائی کے سامنے رکھی گئی تو انھوں نے بھی اپنی شاندار شاعری مخصوص انداز میں پڑھی کر سنائی ۔اس کے بعد سر خلیل نے اپنا کلام محفلین کے روبرو پیش کی ۔
ٹرومیں بھائی سے ہماری پہلی ملاقات تھی ۔ٹرومین بھائی بہت نفیس اور زبردست شخصیت کے مالک ہیں۔ان سے بھی مختصر گفتگو ہوئی ۔ہمیں ٹرومین بھائی کا انداز گفتگو بہت پسند آیا ۔
سجی ہاوس کی جانب سے محفلین سے تخت خالی کرنے کا آرڈر آیا تو سب اٹھ کھڑے ہوئے ۔یوں محفل ملاقات اپنے جزوی اختتام کی جانب چل پڑی ۔ہم نے اپنے لمبے سفر کی پریشان کا ذکر کیا اور تمام محفلین سے اجازت طلب کر کے گھر کے لیے روانہ ہوگئے ۔
نوٹ ! ہمیں بس اتنا ہی یاد ہے اب اگر احوال لکھنے میں کوئی کمی بیشی ہوئی ہو تو ہم ذمہ دار نہیں ہیں ۔
تفصیل کے لیے لنک ملاحظہ فرمائیں ۔

ہفتہ، 23 مارچ، 2019



ہماری ایک غزل آپ دوستوں کے پیش نظر ۔


دل گرفتہ ہوا میں تجھ سے ملاقات کے بعد
روح بیکل ہی رہی گزرے وہ لمحات کے بعد

یوں تو دشمن تھے مرے سارے زمانے کے خدا
میں تو رسوا ہوا تجھ سے ہوئی اُس مات کے بعد

بےرخی سے تری یہ پایا ہے میں نے انعام
میں تو بے فیض رہا تجھ سے ملاقات کے بعد

جس پہ ہو جاتا فدا کوئی بھی ایسا نہ ملا
نہ تری ذات سے پہلے نہ تری ذات کے بعد

تیرا کہنا تھا کہ دن ایک سے ہوتے نہیں سب
زیست کیسے کروں میں گردش حالات کے بعد

یہ مقدر کا لکھا تھا کہ بچھڑ جاؤں میں
دل میں طوفان اٹھاتے ہوئے جذبات کے بعد​

محمد عدنان اکبری نقیبی
ہماری ایک کاوش آپ مہربانوں کی نظر

!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

 تیری بکھری ہوئی زلفوں کا نظارہ کرتا
اپنی سانسیں تری خوشبو سے نکھارا کرتا

آ ہی جاتا مجھے کچھ تیری وفاؤں کا یقین
مست نظروں سے ذرا تو جو اشارہ کرتا

یوں سجاتا تری یادوں سے میں اپنی خلوت
کہ خیالوں میں ترا حُسن سنوارا کرتا

کبھی رخُسار پہ چھا جاتی اگر قُوس قزح
صدقہ پھولوں کا میں تجھ پر سے اتارا کرتا

حیف واقف نہ ہوا حال سے میرے 'ورنہ
تو مرے ساتھ بھی کچھ وقت گزارا کرتا

ختم کرتا جو تعلّق تو نقیبی سے کبھی 
لیلیٰ لیلیٰ بنا مجنوں وہ پکارا کرتا​

محمد عدنان اکبری نقیبی
تلوار سے کاٹا ہے پھولوں بھری ڈالوں کو

دنیا نے نہیں چاہا ہم چاہنے والوں کو

میں آگ تھا پھولوں میں تبدیل ہوا کیسے

بچوں کی طرح چوما اس نےمیرے گالوں کو

اخلاق، وفا، چاہت سب قیمتی کپڑے ہیں

ہر روز نہ اوڑھا کر ان ریشمی شالوں کو

برسات کا موسم تو لہرانے کا موسم ہے

اڑنے دو ہواؤں میں بکھرے ہوئے بالوں کو

چڑیوں کے لیے چاول پودوں کے لیے پانی

تھوڑی سی محبت دے ہم چاہنے والوں کو

اب راکھ بٹوریں گے الفاظ کے سوداگر

میں آگ پہ رکھ دوں گا نایاب رسالوں کو

مولیٰ مجھے پانی دے، میں نے نہیں مانگا تھا

چاندی کی صراحی کو سونے کے پیالوں کو

بشیر بدر