جمعرات، 29 اکتوبر، 2020

 

 پرمزاح غزل


اپنے ہر درد کا امکان ہٹائے رکھا 
جھاڑو بیلن کو بھی زوجہ سے چھپائے رکھا

پاسِ ناموسِِ خداوند، جو خاوند ہے، کہ تھا
سارا احوال دھنائی کا چھپائے رکھا

ایک اندیشۂ ناقدریِ عالَم نے مجھے
عمر بھر زوجہ کے قدموں میں بچھائے رکھا

کبھی جانے نہ دی آواز ہی گھر سے باہر
مار کھاتا رہا ،منہ اپنا دبائے رکھا

دیکھ کر برہنہ پا شہر کے لوگوں نے مجھے
رشکِ گلشن مرے رستے کو بنائے رکھا

اصل کردار تماشے کے وہی لوگ تو تھے
ساس، سالی کو تماشائی بنائے رکھا

 

منگل، 16 جون، 2020


ہمیں لڑنا نہیں ہمیں ڈرنا ہے


ہمیں ڈرنا نہیں ہے ہمیں لڑنا ہے،
پچھلے چند ماہ سے کرونا وائرس سے حفاظتی اقدامات کے لیے یہ اشتہاری سلسلہ تقریبا سب ہی کی نظر سے گزرا ہو گا اور جن لوگوں کی نظر سے نہیں گزرا تو وہ بے شک دنیا کے خوش نصیب لوگ ہیں۔
لیکن آپ یہ سن کر حیران و پریشاں ہوں گے کہ ہمارا نعرہ ذرا مختلف ہے۔ جی ہاں! ہمارا ایسا ماننا ہے کہ " ہمیں لڑنا نہیں ہمیں ڈرنا ہے" اس میں ہی ہم سب شوہر حضرات کی فلاح و بہبود ہے۔
آپ لوگوں نے یہ مثال تو ضرور سنی ہو گی کہ"جس نے جیسا پرکھا، اس نے ویسا پایا " ۔
حیران ہو گئے ناں! کہ ایک طرف لاک ڈاؤن کا جبری تسلسل اور دوسرے جانب ایسا ولولہ انگیز نعرہ ۔
یقین مانیے کہ سرکار وقت نے زندگی کو عجیب ہی دو راہے پر لاکھڑا کیا ہے۔گھر سے باہر جاتے ہیں تو وائرس کی لیپٹ میں آنے کے ساتھ پولیس کی مار کا خطرہ(بلکہ مار سے زیادہ سب کے سامنے اٹھک بیٹھک اور مرغا بننے کا خطرہ)، اور اگر گھر میں خود کو لاک کر کے رکھیں تو گھر کی سرکار سے فساد کا خطرہ۔
خدا جانے یہ ہمارے کن کرموں کا پھل ہے جو سود سمیت ہم ادا کیے جا رہے ہیں ۔
اللہ بخشے ہمارے دادا مرحوم اکثر و بیشتر ہماری نالائقی پر ہمیں اس مثال سے نوازا کرتے تھے،" گھر کا نہ گھاٹ کا دشمن اناج کا "مگر اب موجود حالات میں ہم نے بہت غور و فکر کیا کہ شاید ہماری نالائقی کے شواہد ملیں اور ہم اپنے دل بے چین کو مطمئن کر سکیں مگر نا جی۔ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر ہم یہ اقرار کر رہے ہیں کہ انسان خطاء کا پتلا ہے غلطی ہو ہی جاتی ہے ۔
ہم نے تو یہ بھی سن رکھا ہے کہ نظر بند قیدی کے آرام و آسائش کا ذمہ سرکار کے سر ہوتا ہے مگر ہمارے گھر کی سرکار بھارت کی طرح کان لپیٹے اپنی من مانی پہ تلی رہتی ہیں۔ مجال ہے جو ذرا بھی اقوام متحدہ کی قرارداد پر دھیان دیں۔
بس اب تو یہی دعا ہر دم لبوں پہ رہتی ہے کہ یا اللہ اٹھا لے ۔
ارے دعا تو پوری سن لیں آپ نے پہلے ہی آمین کی صدا بلند کر دی۔
ہم مانتے ہیں کہ دکھ درد سب کے سانجھے ہوتے ہیں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مان چاہی مراد پلک جھپکتے ہی پوری ہو جائے۔
یااللہ اقوام عالم پر یہ کرونا وائرس جو مسلط ہے اس کو دنیا سے اٹھا لے تاکہ سرکار وقت لاک ڈاؤن اٹھا لے اور ہمارے جیسے تیرے 
معصوم اور مظلوم بندے دوبارہ سے آزادی کے ساتھ جی سکیں۔آمین
تحریر از محمد عدنان اکبری نقیبی

جمعہ، 29 مئی، 2020


ناموں کی انوکھی لغت

 !!! انسان بھی عجیب مخلوق ہے
اکثر اوقات درست بات کو بھی غلط سمجھ بیٹھتا ہے اور یہ غلط فہمی شعور اور لاشعور کے عمل دخل کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اکثر لاپروائی میں کہی گئی بات معنوی اعتبار سے تو درست ہوتی ہے مگر موقع محل کے لحاظ سے مناسب نہیں ہوتی۔
اب آپ کہیں گے کہ میں الجھائے دے رہا ہوں اور اصل بات کی طرف نہیں آرہا۔ تو قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے ایک دوست کو اللہ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ پہلی اولاد اور وہ بھی بیٹا۔ ہمارے معاشرے کے رکن ہونے کے ناطے آپ بخوبی ان کی خوشی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ان کے خاندان میں خوب خوشیاں منائی اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔
بچے کے نام کے سلسلہ میں پورا گھرانہ سر جوڑ کے بیٹھ گیا ، سب اپنی اپنی پسند کے مطابق صاحبزادے کے لیے نام تجویز کرنے لگے لیکن کسی نام پہ اتفاق نہ ہو سکا۔ ہمارے دوست کا دل بھی کسی نام پہ نہ ٹھکا۔
جب ہمارے گھر مٹھائی لائے تو ہم نے بہت گرم جوشی سے ان کو مبارکباد دی اور صاحبزادے کو دعاؤں سے نوازا۔انہوں نے نام رکھنے کے معاملے کا ذکر ہم سے کیا۔موصوف فرمانے لگے کہ آپ انٹرنیٹ پر مصروف رہتے ہیں۔شاعری اور اردو ادب سے لگاؤ ہونے کی وجہ سے کئی علمی شخصیات سے سلام دعا بھی ہے، ہو سکے تو صاحبزادے کے نام کے سلسلے میں مدد فرمائیں۔
ہم نے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی اور اچانک ہمارے زرخیز ذہن میں ایک تجویز آئی جو ہم نے فوراً سے پیشتر ان کے گوش گذار بھی کر دی۔
ہم نے انھیں مشورہ دیا کہ نام کے انتخاب کے لیے وہ اپنے گھر کے قریبی قبرستان کا چکر لگالیں،مختلف ناموں کے کتبے قبروں پر جا بجا لگے ہوتے ہیں،دنیا کے بہترین ناموں کی لغت شاید ہی آپ کو کہیں اور مل سکے۔ایک سے ایک خوبصورت نام آپ کو وہاں لکھا نظر آئے گا۔ناموں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ آپ کو درس عبرت کا سبق بھی مل جائے گا اور اہل قبور پر فاتحہ پڑھنے کا ثواب الگ میسر آئے گا۔ گویا نام کے نام، گٹھلیوں کے دام۔
ہماری تجویز سن کر نہ جانے کیوں ان کی حالت ایسی ہو گئی کہ جیسے ہم نے ان کی دم پر انجانے میں پاؤں رکھ دیا ہو۔وہ ہمیں غصہ اور دکھ کی ملی جلی کیفیت سے یوں تکنے لگے کہ اگر ان کے بس میں ہو تو ہمارا سر قلم کر کے ہمیں درجہ شہادت سے فیضیاب کر دیں۔ ہم نے تو اپنی جانب سے بہت ہی علمی اور معرفت سے معمور تجویز ان کے گوش گذار کی تھی۔
بہرحال وہ ہمارا سر تو قلم نہ کر سکے لیکن تجویز سنتے ہی ایسے رخصت ہوئے کہ آج تک ہم اپنے دوست کے رخ یار کے درشن سے محروم ہیں۔

تحریر از محمد عدنان اکبری نقیبی

منگل، 20 اگست، 2019


Image result for ‫خوشامد‬‎

تحریر: محمد نعیم وڑائچ

اردو محفل فورم

جیسے انسان نے ہر شعبے میں نت نئی ایجا دات کی ہیں ویسے ہی ہتھیا روں کی بھی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ نئے نئے طریقے اور مہارتیں- مقصد یہ ہے کہ ہتھیار کی کاٹ کو تیز سے تیز تر اور اس درجہ مہلک کر دیا جائے کہ کوئی دوسرا آپ کے سامنے پر بھی نہ مارے- بات پتھر کے تراشے ہوئے بھالوں سے چلی اور تیر کمان سے ہوتی ہوئی میزائل اور راکٹ تک آ پہنچی- تلواروں کا زمانہ گزرا اورگولی اور بارود نے اپنا رنگ دکھایا – ہائڈروجن بم ، کیمیا ئی گیسیں اور نہ جانے کیا کیا – کوشش یہی ہے کی دوسرے کو مطیع کیا جائے اور اپنا کام نکالا جائے۔

لیکن ایک ہتھیار انسان کے پاس ایسا ہے جو ان سب پہ بھاری ہے- بڑے بڑے شہنشاہ ، جنگجو، اکھڑ مزاج اور طرم خاں اس کے آگے بے بس ہیں- بس اس کا صیح اور بر وقت استعمال آنا چا ہئیے – اور غٖضب تو یہ کہ طریقہ واردات بھی وہ ہی زمانہ قدیم والا ہے- کیا کمال کی کاٹ ہے اور وار ایسا کہ کوئی دم نہیں مارتا- ایسے ایسے کام نکل آتے ہیں جو کسی پستول سے تو کیا توپ سے بھی نہ ہوں- بعض دلیر لوگ تو اڑ جاتے ہیں نہ خنجر سے ڈرتے ہیں نہ گولی سے مگر اس ہتھیار کے آگے رام ہو جاتے ہیں- اور کیا بھلا سا نام رکھا ہے کسی نے ۔ خوشامد ۔ اس کے استعمال میں مہارت رکھنے والا خوشامدی کہلاتا ہے اور کمال مہارت رکھنے والا چاپلوس جو خو شامدی سے تھوڑا آگے کی چیز ہوتا ہے-

اگرچہ ممکن ہے کی قدرت نے ہر انسان کو خوشامد نامی ہتھیار سے لیس کیا ہو لیکن اسے برتنا اور فائدہ اٹھانا ہر کوئی نہیں جانتا- بس خوشامدی ہی جانتا ہے – کہاں ہلکی سی تعریف کرنی ہے اور کہاں آسمان پہ چڑھانا ہے – کس کی چغلی کرنی ہے اور کسے فرشتہ بنانا ہے - صاحب کی کس خوبی کو کس وقت یاد کروانا ہے اور کس کمی کوتاہی کو امر ربی میں چھپانا ہے- کب جوتوں کی تعریف کرنی ہے اور کب بالوں پہ مکھن لگانا ہے- یہ بس خوشامدی ہی جانتا ہے- ایسے ایسے لفظوں اور فقروں کے تیر چلاتے ہیں جو سیدھا مخاطب کے دل میں جا لگتے ہیں – اب ان سے کون بچے اور کیسے بچے جب دل یہ کرتا ہے کہ خوشامدی بولتا چلا جائے اور انسان سنتا چلا جائے- جس تیر کو نشانہ خود تلاش کرے اس کی کاٹ میں کیا بھلا کوئی کمی ہو گی-

آپ گہرے رنگ کے کپڑوں میں بجو لگ رہے ہوں لیکن خوشامدی آپ کی روشنی سے کمرے کو معمور کر دے گا اور ظاہر ہے آپ اس کی جھولی کو خالی تھوڑا رکھیں گیں- آپ سفید رنگ کے سوٹ پہ سرخ رنگ کی ٹائی لگا لیں اور پیلے جوتے پہن لیں پھر بھی خوشامدی آپ کے انتخاب کی ایسے داد دے گا کہ آپ اپنی وجاہت پہ اتراتے پھریں گے- ساری دنیا زیر لب مسکرائے گی اور آپ خوشامد کے وار تلے بے خود اپنے آپ کو خیالی حسینوں کے جھرمٹ میں پائیں گے۔

ارے صاحب ہم اور اپ کس کھیت کی مولی ہیں یہاں تو بڑے بڑے دبنگ بادشاہ ، راجے مہاراجے ، کیا عوام اور کیا خواص سب اس ہتھیار کے محکوم ہیں- دیکھا جائے تو دنیا کے اصل فاتح تو یہی خوشامدی اور چاپلوس ہیں- اور بھلا کیوں نہ ہوں کہ یہ دِلوں کو فتح کرتے ہیں- مجال ہے جو ان کا شکار ان سے دور ہو جائے- لوگوں نے تو جاگیریں تک ان کے نام کر دیں – سلطنتوں سے ہاتھ دھو لئیے – ملکوں کو تباہ و برباد کروا لیا لیکن خوشامدیوں سے دور نہ ہوئے-

طریقہ ہائے واردات بھی بہت دلچسپ ہوتے ہیں- ذرا غور فرمائیں توآپ کو کئی میدانِ کارزار نظر آیئں گے جہاں خوشامد کے تابڑ توڑ معرکے لڑے جا رہے ہوتے ہیں- آج کل کے ٹی وی ٹاک شوز میں کمال کے ہتھیار باز ملیں گے- ایسے ایسے منجھے ہوئے خوشامدی اور چاپلوس اور کہیں شائد ہی نظر آئیں- اپنے اپنے لیڈران کی ایسی ایسی خوبیاں بیان کرتے ہیں کہ اکثر اوقات تو ان کے فرشتہ ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے کہ انسان تو بہر حال خطا کا پتلا ہے- لاکھ کوشش کرے پھر بھی کوئی ایک آدھ غلطی ہو ہی جاتی ہے- ان ہتھیار بازوں کے اصل کمالات تب کھلتے ہیں جب وہ پارٹی بدلتے ہیں – بس پھر کیا – پہلے جس لیڈر سے نظام عالم رواں تھا وہ ہر خرابی کی جڑ ٹھہرا اور جس کے جناب روز لتّے لیتے تھے اسے سر آنکھوں پہ بٹھایا- ہر کوئی اپنے لیڈر کی گڈی دوسرے سے اوپر چڑھانے کی کوشش میں خوشامد کے ایسے ایسے جوھر دکھاتا ہے کہ دیکھنے اور سننے والا بیچارہ شرمندہ ہونے لگتا ہے – مگر مجال ہے جو خوشامدی کے چہرے پہ شرم نام کی کسی چیز کا شائبہ تک بھی محسوس ہو- دراصل جیسے جیسے خوشامد میں مہارت پیدا ہوتی جائے گی شرمندگی کا عنصر خوشامدی سے ختم ہوتا جائے گا-

اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں خاص طور پر لوکل اخبار- چلیں چاند سے بیٹے کی مبارک تو بنتی ہے لیکن نئے ماڈل کی گاڑی پر مبارک باد کے اشتہارات کی تک سوائے اس کے سمجھ نہیں آتی کی صاحبِ سواری کے دل تک براستہ اخبار رسائی حاصل کی جائے- ان اخبارات کو دیکھ کے لگتا ہے کہ ممتاز کاروباری شخصیات اور اعلی سیاسی و مذہبی قائدیں کے ساتھ تصویروں کی اشاعت ہی ہمارا مقصد حیات ہے- کچھ لوگ تو ایسے موقع پر اس فاتحانہ طمطراق سے مسکرا رہے ہوتے ہیں جیسے دم نکلنے سے پہلے آخری خواہش پوری ہو جائے-

ویسے تو خوشامد نامی ہتھیار دنیا کے ہر معاشرے اور تاریخ کے ہر موڑ پر استعمال ہوتا آیا ہے لیکن جہاں لوگ محنت سے زیادہ چاپلوسی پہ یقین رکھتے ہوں وہاں یہ بہت کثرت سے نظر آتا ہے- ہم اپنے ارد گرد پھیلی خوشامد سے اندازہ کر سکتے ہیں یہاں میرٹ پہ کیا گزرتی ہو گی اور فیصلے کس بنیاد پہ ہوتے ہوں گے-

منگل، 16 جولائی، 2019

سر جھکایا تو پتھر صنم بن گئے،


سر جھکایا تو پتھر صنم بن گئے، عشق بھٹکا تو حق آشنا ہو گیا
رشک کرتا ہے کعبہ میرے کُفر پر، میں نے جس بت کو پوجا خدا ہو گیا

گُم رہی ہے کہ معراج ہے عشق کی، اے جنوں بول منزل ہے یہ کونسی،
اس کے گھر کا پتہ پُوچھتے پُوچھتے، پُوچھنے والا خود لاپتہ ہو گیا

وقت، احباب، پرچھائیں، سورج ، کرن، لوگ، دنیا، خوشی، چاندنی ، زندگی،
میرے محبوب اک تیرے غم کے سوا، جو مِلا راستے میں جُدا ہو گیا

میں محبت سے منہ موڑ لیتا اگر، ٹوٹ پڑتی یہ بجلی کسی اور پر
میرے دل کی تباہی سے یہ تو ہوا، کم سے کم دوسروں کا بھَلا ہو گیا

کاروبارِ تمنا میں یہ تو ہوا، اُن کے قدموں پہ مرنے کا موقع ملا
زندگی بھر تو گھاٹا اُٹھاتے رہے، آج پہلی دفعہ فائدہ ہو گیا

ایسا بھٹکا کہ لَوٹا نہیں آج تک، ایسا بِچھڑا کہ آیا نہیں آج تک
دل یہ کمبخت ہے اس قدر باؤلا، آپ کے گھر گیا، آپ کا ہو گیا


ماہر القادری کی ایک اور خوبصورت غزل

ساقی کی نوازش نے تو اور آگ لگا دی
دنیا یہ سمجھتی ہے مری پیاس بجھا دی 

ایک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی 

اس بات کو کہتے ہوئے ڈرتے ہیں سفینے
طوفاں کو خودی دامن ساحل نے ہوا دی 

مانا کہ میں پامال ہوا زخم بھی کھائے
اوروں کے لیے راہ تو آسان بنا دی 

اتنی تو مئے ناب میں گرمی نہیں ہوتی
ساقی نے کوئی چیز نگاہوں سے ملا دی 

وہ چین سے بیٹھے ہیں مرے دل کو مٹا کر
یہ بھی نہیں احساس کہ کیا چیز مٹا دی 

اے باد چمن تجھ کو نہ آنا تھا قفس میں
تو نے تو مری قید کی میعاد بڑھا دی 

لے دے کے ترے دامن امید میں ماہرؔ
ایک چیز جوانی تھی جوانی بھی لٹا دی 

بدھ، 3 اپریل، 2019

مِٹّھو بھٹیارا اشرف صبوحی


میاں مٹھّو کا نام تو کچھ بھلا سا ہی تھا، کریم بخش یا رحیم بخش ٹھیک یاد نہیں، ڈھائی ڈھوئی کے مینہ ایسی سخت بارش جس سے مکان 
گر پڑے تھے۔ سے پہلے کی بات ہے۔ ساٹھ برس سے اوپرہی ہوئے ہوں گے۔ مگر ایک اپنی گلی والے کیا، جو انھیں پکارتا میاں مٹھّو کہہ کر اور انھیں بھیمٹھّو بھٹیارے تھے۔ سرائے کے نہیں۔ دلّی میں محلے محلے جن اسی نام سے بولتے دیکھا۔ میاں مٹھّوکی دکانیں ہوتی ہیں،تنور میں روٹیاں لگتی اور شور با، پائے اور اوجھڑی بکتی ہے۔ نان بائی اور نہاریوالوں سے ان بھٹیاروں کو ذرا نیچے درجے کا سمجھنا چاہیے۔ تنور والے سب ہوتے ہیں۔ نان بائیوں کے ہاں خمیری روٹی پکتی ہے۔ یہ بے خمیر کے پکاتے ہیں۔ ادھر آٹا گندھا اور ادھر روٹیاں پکانی شروع کردیں۔ پراٹھے تو ان کا حصہ ہے۔ بعض تو کمال کرتے ہیں۔ ایک ایک پراٹھے میں دس دس پرت اور کھجلے کی طرح خستہ۔ دیکھنے سے مُنھ میں پانی بھر آئے۔ قورمہ اور کبابوں کے ساتھ کھائیے۔ سبحان اللہ۔ بامن کی بیٹی کلمہ نہ پڑھنے لگے تو ہمارا ذمہ ۔مِٹّھو بھٹیاراکی دکان تھی۔ شیش شاہ تارا کی گلی میں شیش محل کے دروازے سے لگی ہوئی محل کہاں؟ کبھی ہوگا۔ اس وقت تک آثار میں آثار ایک دروازہ وہ بھی اصلی معنوں میں پھوٹاہوا
بہ طور یاد گار۔ اب تو ہمارے دیکھتے دیکھتے وہ بھی صاف ہوگیا۔اس کی جگہ دوسریباقی تھا۔ نمونتہ عمارتیں بن گئیں۔ دروازہ توکیا رہتا، دروازے کے دیکھنے والے بھی دوچار ہی ملیں گے۔ سنا ہےجاڑے گرمی برسات محلےّ بھر میں سب سے پہلے میاں مٹھو کی دکان کھلتی۔ منھ اندھیرے، بغل میں مصالحہ کی پوٹلی وغیرہ سر پر پتیلا، پیٹھ کے اوپر کچھ چھپٹیاں کچھ جھانکڑ لگنی میں بندھے ہوئے
گنگناتے چلے آتے ہیں۔ آئے دکان کھولی، جھاڑو، بہارو کی، تنور کھولا، ہڈیوں گڈیوں یا اوجھڑی کا ہنڈا نکالا۔ ہڈیاں جھاڑیں۔ اس کوٹھی کے دھان اس کوٹھی میں کیے۔ یعنی گھر سے جو پتیلا لائےتھے۔ ہنڈے کا مال اس میں ڈالا۔ مصالحہ چھڑکا اور اپنے دھندے سے لگ گئے۔ سورج نکلتے نکلتےسالن، نہاری، شروا جو کہو درست کرلیا۔ تندور میں ایندھن جھونکا۔ تندور گرم ہوتے ہوتےغریب غربا کام پر جانے والے روٹی پکوانے یا لگاون کے لیے شروا لینے آنے شروع ہوگئے۔ کسی کے ہاتھ میں آٹے کا طباق ہے تو کوئی مٹّی کا پیالہ لیے چلا آتا ہے اور میاں مٹھّو ہیں کہ جھپاجھپ روٹیاں بھی پکاتے جاتے ہیں اور پتیلے میں کھٹا کھٹ چمچا بھی چل رہا ہے۔مٹھو میاں کی اوجھڑی مشہور تھی۔ دو ر دور سے شوقین منگواتے۔ آنتوں اور معدے کے جس مریض کو حکیم اوجھڑی کھانے کو بتاتے وہ یہیں دوڑا چلا آتا۔ کہتے ہیں کہ پراٹھے بھی جیسے میاں مٹھو پکا گئے پھر دّلی میں کسی کو نصیب نہ ہوئے۔ ہاتھ کچھ ایسا منجھا ہوا تھا، تندور کا تاؤ ایسا جانتے تھے کہ مجال ہے جو کچارہے یا جل جائے۔ سرخ جیسے باقر خانی، سموسے کی طرح ہر پرتی سے زیادہ نرم بالکل ملائی۔ کرارا کہو توپاپڑوں کی تھئی۔ کھجلے کو مات کرے۔ پھر
الگ نرم کہو تو لچھئ گھی کھپانے میں وہ کمال کہ پاؤسیر آٹے میں ڈیڑھ پاؤکھپاویں۔ ہر نوالے میں گھی کا گھونٹ اور لطف یہ کہ دیکھنے میں روکھا۔ غریبوں کے پراٹھے بھی ہم نے دیکھے۔ دو پیسے کے گھی میں تربہ تر۔ بہ ظاہر یہی معلوم ہوتا کہ ڈیڑھ پاؤ گھی والے سے دو پیسے والے پر زیادہ رونق ہے، اس ہنر کی بڑی داد یہ ملتی کہ غریب سے غریب بھی پراٹھا پکوا کر شرمندہ نہ ہوتا۔ پوسیری اور چھٹنکی پراٹھے دیکھنے والوں کو یکساں ہی دکھائی دیتے۔ مال دار اور مفلس کا بھید نہ کھلتا۔پچھلے وقتوں میں ہر آدمی اپنی کھال میں رہتا، جس رنگ میں ہوتا وہی رنگ دکھاتا۔ جس
قوم کا ہوتا وہی بتاتا۔ یہ نہیں کہ پیٹ سے زیادہ ملا اور اپھر گئے۔ ہیںاوباش اور صورت ایسی اختیار کی کہ لوگ صوفی کہیں۔ تھے مردھوں میں، اللہ نے کام چلا دیا اب مرزا مغل کی اولاد ہونے میں کیا شک رہا۔ اللہ نے جیسا بنادیا۔ جس پیشے میں رزق اتار دیا۔ جو صورت بنا دی۔ اپنی شخصیت کی جھوٹی نمائش انسان کیوں کرے۔ جہاں ہو، کیا وہاں شرافت نہیں دکھا سکتے؟ حلال خور، چمار، کنجڑے، قصائی سب اپنے اپنے درجے میں شریف ہوتے ہیں۔ اچھے کام کرو، دین داری بھل منسائی کے ساتھ، دوسرے سے پیش آؤ، حرام خوری پر کمر نہ باندھو۔ یہی شرافت ہے۔ جنم کا اولیاکرم کا بھوت، پہلے کپوت، دوجے اچھوت، اونچے خاندان میں سبھی تو فرشتے نہیں ہوتے۔ ایک درخت کے بہت سے پھل ِ کڑکھائے بھی نکل آتے ہیں۔ دھول کوٹ کی بعض کچریاں ایسی مزےدار دیکھو گے کہ لکھنؤ کا چتلا پانی بھرے۔کوئی پچاس برس ہوئے کلن نفیری والا، گل زار بھانڈ، اچپل ہیجڑا، ننواں تیلی، اجلا دھوبی، ببی رنگریز، چپوّ قصائی، چھوٹا گھوسی، امیر نائی، شبّو شہدا، بنّوگور کن، کوڑا بھنگی کہنے کو کمین اور پیشےکے لحاظ سے نیچے تھے مگر ان کی شرافت کیا کہنا؟ پھر خدا نے، انُ کو بڑھایا چڑھایا بھی ایسا ہی تھا۔میاں مٹھّو رہے تو بھٹیارے کے بھٹیارے۔ غریب کو مرتے مرتے گھر کامکان تک نہ جڑا۔بھٹیارے سے نان بائی بھی نہ بنے ۔ سدا اپنے ہاتھ ہی سےتندورجھونکا ۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہجیتے جی کوئی انُ کی طرف انگلی نہ اٹھا سکا۔ کیا مجال کہ کسی طور طریق میں بساندآتی۔ نور کے تڑکےسرجھکائے آنا، ہنس کر بات کرنا اپنے کام سے کام رکھنا اور رات کے بارہ بجے آنکھیں بند کیے چلےجانا۔ آدمی کچھ مشینّ نہ تھے۔ معمولی قد، چھریرا بدن، سر گھٹا ہوا، چندی آنکھیں، پلکیں اڑی ہوئی۔ شاید دھوئیں اور آگ نے آنکھوں اور پلکوں کا یہ درجہ بنا دیا تھا۔ ڈاڑھی کیا بتاؤں۔ جب کبھی ہوگی تو بالکل خصی بکرے کی سی۔ تندور میں جھک کر روٹی لگائی جاتی ہے۔ کوئی کیسا ہی چھپا کا کرے آگ کی لپٹ کہاں چھوڑے۔ جھلستے جھلستے لہسن کی پیندی بن کر رہ گئی تھی۔ ڈاڑھی کا یہ حال تو مونچھوں کا کیا ذکر؟ دلّی میں جب تک شاہی رہی، دن عید رات شب برات تھی۔ ایک کماتاکنبہ بھر کھاتا۔نہ ٹیکس تھے نہ اتنی گرانی۔ ہر چیز سستی غدر کے بعد تک روپے کا پچیس سیر آٹا۔ پکا دو سیر ڈھائی سیرگھی۔ بکری کا اچھے سے اچھا گوشت چار یا چھ پیسے سیر، ترکاریاں پڑی سڑتیں۔کون پوچھتا؟ مکانوں کا کرایہ برائے نام۔ اوّل تو غریب یا امیر سب کے مرنے جینے کے ٹھکانے اپنے الگ۔ پکامحل نہ سہی کچی کھپریل سہی، دوسرے غیر جگہ بسے بھی تو مفت برابر۔ آٹھ آنے، روپے دو روپے حد تین، اس سے زیادہ نہ کوئی دیتا نہ لیتا۔ ان فارغ البالیوں اور راحتوں کے بعد مہینے کے تیس دن میں اکتیس میلے کیوں نہ ہوتے؟ روز ایک نہ ایک تہوار رکھا تھا۔ پھر جو تھا رنگیلا۔ بات بات میں دل کے حوصلے دکھانے اور چھٹی منانے کے بہانے ڈھونڈے جاتے۔ عید کے پیچھے ہفتے بھر تک سیریں منائی جاتیں۔ باغوں میں ناچ ہورہے ہیں۔ دعوتیں اڑ رہی ہیں۔ شب برات آئی، آتش بازی بن رہی ہے۔ وزن سے وزن کا مقابلہ ہے۔ بسنتوں کی بہار دیکھنے کے قابل ہوتی، سورج مکھی کے ارد گرد مرہٹی بازوں کے غول ہیں۔ واہ واہ کا شور ہے۔ آج اس مزار پر پنکھا چڑھا کل اسدرگاہ پر۔ محرم میں سبیلیں سجتیں۔ تعزیہ داریاں ہوتیں، براق نکلتے، اکھاڑے جمتے۔دلّی کی دل والی منھ چکنا پیٹ خالی۔غدر کے بعد کی کہاوت ہے۔ گھر بار لٹ گیا، شاہی اجڑ گئی، سفید پوشی ہی سفید پوشی باقی تھی۔ اندر خانہ کیا ہوتا ہے؟ کوئی کیا جانے باہر کی آب رو جہاںتک سنبھالی جاسکتی سنبھالتے۔ مدتوں پرانی وضع داری کو نبھایا۔ شہر آبادی کی رسمیں پوری کرتے رہے۔ سات دن فاقے کرکے آٹھویں روز پلاؤ کی دیگ ضرور چڑھ جاتی۔ اپنے بس تو باپ دادا کی لکیر چھوڑی نہیں۔ اب زمانہ ہی موافق نہ ہوتو مجبور ہیں۔ فاقے مست کا لقب بھی مسلمانوں
کو قلعے کی تباہی کے بعد ہی ملا ہے۔ اللہ اللہ! ایک حکومت نے کیا ساتھ چھوڑا سارے لچھن جھڑ گئے۔ ہر قدم پر مُنھ کی کھانے لگے۔ اگلے روپ اب تو کہاں دیکھنے میں آتے ہیں۔ کچھ بد نصیبی نے بگاڑے تو کچھ نئی تہذیب سے بدلے۔ اور جو کہیں دکھائی بھی دیں گے تو بالکل ایسے جیسے کوئی سانگ بھرتا ہے۔ دل کی امنگ کے ساتھ نہیں صرف رسماً کھیل تماشا سمجھ کر۔ محرم میں سبیلیں آج بھی رکھی جاتی ہیں۔تعزیہ داری بھی ہوتی ہے مگر دلوں کے حوصلے مر گئے تو زندگی کس بات میں؟ پرانی روحوں کو ثواب پہنچانے کے سوا کچھ نہیں۔ میاں مٹھّو دکان کے آگے دو کورے مٹکے رکھ کر سبیل بھی لگاتے اور برابر کی دکان میں تعزیہ بھی رکھتے۔ ان کے تعزیے میں کوئی ندرت تو نہ ہوتی۔ آرا ئش کا۔ ہاں جو چیز دیکھنے کے قابل تھی وہ ان کی عقیدت یا پ ن والوں سے بنوا لیتے۔ معمولی کھپچیوں اور سوگ دار صورت چاند رات سے جو یہ امام حسین علیہ السلام کے فقیر بنتے تو بارھویں کو حلیم کھاکرکہیں نہاتے دھوتے اور کپڑے بدلتے۔دّلی میں پچاس ساٹھ برس پہلے تک منتوں ، مرادوں کا بڑا زور تھا۔ درگاہوں میں چّلے چڑھتے، مسجدوں کے طاق بھرے جاتے بچوں کے گلوں میں اللہ آمین کے گنڈے ڈالتے، جینے
کے لیے طرح طرح سے منتیں مانی جاتیں، کوئی شاہ مدار کے نام کی چوٹی رکھتا، کوئی حسینی فقیر بناتا۔لوگ کچھ کہیں، جہالت کے عیب لگائیں یا عقیدے کا کچا بتائیں سچ پوچھو تو فارغ البالی کے سارے چونچلے تھے۔ وہ جومثل ہے کہ کیا ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی۔ دل ہی افسردہ ہو اورہاتھ ہی خالی ہوگئے تو جس کام میں جتنی چاہوفی نکال لو۔ خیر! وقت وقت کی راگنیاں ہوتی ہیں۔ مطلب یہ کہ میاں مٹھّو بھی فقیر بنتے تھے۔ بچپن میں ماں باپ نے بنایا ہوگا۔ جوانی میں بد صورت پر بھی کچھ نہ کچھ روپ ہوتا ہے۔ سبز پوشی بھاگئی۔ ہر سال فقیر بننے لگے۔ تعزیہ داری کئی پشتوں سے انکے ہاں ہوتی آئی تھی۔ یہ اپنے بڑوں کی سنّت کیوں ترک کرتے۔ اس کے بعد لوگوں کا بیان ہےکہ انھیں کچھ نظر بھی آیا۔ حضرت عباس کی زیارت بھی ہوئی، اور ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی بار۔یہی سبب تھا کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق سچے دل سے تعزیہ نکالتے اور جو کچھ کرتے بناوٹ سےخالی ہوتا۔ جوانی بھر ان کا یہی طور رہا اور مرتے مرتے اور کچھ ہو نہ ہو تو تعزیہ نکالنا اور فقیر بننا نہ چھوڑا۔ آخر میں غریب کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ دکان پر ایک شاگرد کو بٹھا دیا تھا۔ وہ نالائق نکلا۔ آٹھ آنے روز استاد کو دیتا وہ بھی آٹھ آٹھ آنسو رلاکر۔ تاہم جس طرح بنتا محرم کے لیےانھیں بیس پچیس روپے بچانے لازمی تھے۔ دوستوں کو حلیم کھلاکر فقیری اترتی۔باپ کے مرنے کے بعد میاں مٹھّو نے جب دکان سنبھالی ہے تو ان کی عمر پچیس برس سے کم نہ ہوگی۔ شادی ہوگئی تھی بلکہ دو بچے بھی ہوکر مرگئے تھے۔ باپ کے سامنے بھی یہ گھنٹےدو گھنٹے کے لیے تعزیے کے پاس آکر بیٹھتے لیکن رات کے دس بجے دکان اٹھا کر۔ اب تمام ذمہ داری کا بوجھ ان کے سر پر آپڑا تھا اس لیے چراغ چلتے ہی جلدی جلدی دُکان داری ختم کی۔ پاس کی مسجد میں نہائے۔ سبز تہمد باندھا۔ سبز کرتا پہنا لال، کلاوہ گلے میں ڈالا، جھولی سنبھالی۔ سبز دو پلڑی ٹوپی منڈے ہوئے سر پر جمائی اور تعزیے کے پہلو میں دوزانو آبیٹھے۔ ملنے والوں میں جو سوز، نوحہ، مرثیہ پڑھنے والے ہوتے، آتے اور ثواب کے لیے کچھ پڑھ کر چلے جاتے۔ اب جہاں جہاں اس قسم کی تعزیے داری ہوتی ہے یہی دیکھنے میں آیا ہے۔ انھیں خود بھی سوز پڑھنے کا شوق تھا۔ شوق کیا تعزیہ داری، سبیل لگانے، حسینی فقیر بننے اور تعزیے کے آگے آگے کچھ پڑھنے کو نجات کا باعث سمجھتے تھے۔ آواز تو جیسی بھونڈی تھی، تھی ہی۔ طرہ یہ کہ سلام یا بین جو چیز حضرت پڑھتے وہ بھی سنا گیا کہ آپ ہی کی تصنیف ہوتی۔ لیکن پڑھتے وقت صورت کچھ ایسی سچ مچ کی رونی بناتے اور ایسے جذبے کے ساتھ ادا کرتے کہ سننے والے حضرت امام کی بے کسی کو بھول کر ان پر ترس کھانے لگتے۔محلےّ میں کئی جگہ تعزیے نکلتے اور بڑی کاری گری کے ہوتے۔ مرثیے بھی وہاں خوب خوب پڑھے جاتے مگر بھیڑ جتنی ان کی دکان کے آگے رہتی کہیں نہ رہتی۔ بڈھوں کو رقت چاہیے اوربچوں کو دل لگی۔ یہ دونوں باتیں میاں مٹھّو میں موجود تھیں۔ بڑے بوڑھے تو انھیں کچھ اور ہی سمجھنے لگے تھے۔ جاگتے یا سوتے یہ سقائے سکینہ کی زیارت کرچکے تھے۔ سبز عمامہ باندھے، نقاب ڈالے، نیزہ ہاتھ میں لیے، گھوڑے پر سوار سید الشہدا حضرت امام حسین کو بھی انھوں نے اپنےتعزیے کے سامنے دیکھا تھا۔ یہ اپنا گھڑا ہوا سلام الاپتے اور وہ بیٹھے سر دھنا کرتے۔ لڑکے بالےکچھ توریوڑیوں یا کھیلوں کے لالچ میں جمے رہتے یا ان کی حرکات وسکنات کا تماشا دیکھنے کے لیے۔بے چارے شاعر تو کیا تھے بلکہ کلام مجید بھی پورا نہیں پڑھا تھا۔ جوانی میں چاؤڑی بازاربھی دو چار ہی مرتبہ گئے ہوں گے ورنہ مرثیے کے دوچار بند، سلام کے پانچ سات شعر یا کوئی سوز وہیں سے یاد کر لاتے۔ اب شوق پورا کرنا ٹھہرا۔ گھڑ گھڑا کر ایک سلام بنالیا۔ میرا حافظہ کم بخت ایسا خراب ہے کہ کئی دفعہ سنا اور یاد نہیں رہا۔ حالاں کہ میاں مٹھو اسی سلام کی بدولت بنے۔سلام کہو یا مرثیہ، سوز کہو یا نوحہ کوئی ایسی چیز تھی جس میں بار بار ؎’’نبی جی کے لاڈلوں پر بھیجو سلام‘‘ آتا تھا۔ اور اسی کو وہ سب سے زیادہ لہک لہک کر ادا کرتے تھے۔ اس سے بحث نہیں کہ یہ ناپ تول کے حساب سے کوئی مصرعہ ہے یا کیا۔ افسوس میں نے لکھ کیوں نہ لیا۔ اور اب جسسے پوچھتا ہوں اسی ایک مصرعہ کے سواکچھ نہیں بتاتا۔ اچھا اس مصرعے سے اور میاں مٹھّو کےخطاب سے کیا نسبت؟ آہ دلّی مرحوم! دلّی والوں کی دور بلا، میاں دلّی والے ہی نہ رہے۔ دّلی کا چھ برس کا بچہ تک سمجھ جاتا۔ آخر کریم بخش یارحیم بخش پر میاں مٹھّو کی پھبتی بھی تو بچوں ہی نے کہی تھی۔ ’’نبی جی کے لاڈلوں پر بھیجو سلام‘‘ والا سلام پڑھتے انھیں دوسرا دن تھا کہ محلے کا ایک لڑکا روٹی پکوانے آیا۔ اتفاق سے رات کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ لڑکا انھیں دیکھتا اور مسکراتا رہا۔اکیلا تھا کچھ کہنے کا، ہباؤ نہ پڑا۔ اتنے میں اس کا ایک یار بھی آپہنچا۔ ایک نے دوسرے کو دیکھا۔ میاں مٹھّو کی طرف اشارہ کیا اور دونوں کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ ہنستے ہنستے ایک بولا ’’میاں مٹھو ہیں‘‘ دوسرا کہنے لگا۔ ’’میاں مٹھّو نبی جی بھیجو۔‘‘ دکان پر کھڑے ہونے والے، لونڈوں کی باتوں پر لوٹ لوٹ گئے۔ اب کیا تھا ساری گلی میں ’’میاں مٹھو نبی جی بھیجو‘‘ شروع ہوگیا۔ اس دن سے یہ ایسے میاں مٹھّو بنے کہ لوگوں کو ان کا اصلی نام ہی یاد نہ 
رہا۔ لیکن اللہ بخشے کبھی برانہ مانا اور نہ اپنی وضع بدلی۔ مرتے مرتے اپنا وہی سلام پڑھا۔
 بشکریہ
اردو محفل فورم سید شہزاد ناصر