جمعرات، 29 اکتوبر، 2020

 

 پرمزاح غزل


اپنے ہر درد کا امکان ہٹائے رکھا 
جھاڑو بیلن کو بھی زوجہ سے چھپائے رکھا

پاسِ ناموسِِ خداوند، جو خاوند ہے، کہ تھا
سارا احوال دھنائی کا چھپائے رکھا

ایک اندیشۂ ناقدریِ عالَم نے مجھے
عمر بھر زوجہ کے قدموں میں بچھائے رکھا

کبھی جانے نہ دی آواز ہی گھر سے باہر
مار کھاتا رہا ،منہ اپنا دبائے رکھا

دیکھ کر برہنہ پا شہر کے لوگوں نے مجھے
رشکِ گلشن مرے رستے کو بنائے رکھا

اصل کردار تماشے کے وہی لوگ تو تھے
ساس، سالی کو تماشائی بنائے رکھا

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں