منگل، 16 جولائی، 2019

سر جھکایا تو پتھر صنم بن گئے،


سر جھکایا تو پتھر صنم بن گئے، عشق بھٹکا تو حق آشنا ہو گیا
رشک کرتا ہے کعبہ میرے کُفر پر، میں نے جس بت کو پوجا خدا ہو گیا

گُم رہی ہے کہ معراج ہے عشق کی، اے جنوں بول منزل ہے یہ کونسی،
اس کے گھر کا پتہ پُوچھتے پُوچھتے، پُوچھنے والا خود لاپتہ ہو گیا

وقت، احباب، پرچھائیں، سورج ، کرن، لوگ، دنیا، خوشی، چاندنی ، زندگی،
میرے محبوب اک تیرے غم کے سوا، جو مِلا راستے میں جُدا ہو گیا

میں محبت سے منہ موڑ لیتا اگر، ٹوٹ پڑتی یہ بجلی کسی اور پر
میرے دل کی تباہی سے یہ تو ہوا، کم سے کم دوسروں کا بھَلا ہو گیا

کاروبارِ تمنا میں یہ تو ہوا، اُن کے قدموں پہ مرنے کا موقع ملا
زندگی بھر تو گھاٹا اُٹھاتے رہے، آج پہلی دفعہ فائدہ ہو گیا

ایسا بھٹکا کہ لَوٹا نہیں آج تک، ایسا بِچھڑا کہ آیا نہیں آج تک
دل یہ کمبخت ہے اس قدر باؤلا، آپ کے گھر گیا، آپ کا ہو گیا


ماہر القادری کی ایک اور خوبصورت غزل

ساقی کی نوازش نے تو اور آگ لگا دی
دنیا یہ سمجھتی ہے مری پیاس بجھا دی 

ایک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی 

اس بات کو کہتے ہوئے ڈرتے ہیں سفینے
طوفاں کو خودی دامن ساحل نے ہوا دی 

مانا کہ میں پامال ہوا زخم بھی کھائے
اوروں کے لیے راہ تو آسان بنا دی 

اتنی تو مئے ناب میں گرمی نہیں ہوتی
ساقی نے کوئی چیز نگاہوں سے ملا دی 

وہ چین سے بیٹھے ہیں مرے دل کو مٹا کر
یہ بھی نہیں احساس کہ کیا چیز مٹا دی 

اے باد چمن تجھ کو نہ آنا تھا قفس میں
تو نے تو مری قید کی میعاد بڑھا دی 

لے دے کے ترے دامن امید میں ماہرؔ
ایک چیز جوانی تھی جوانی بھی لٹا دی