منگل، 20 اگست، 2019


Image result for ‫خوشامد‬‎

تحریر: محمد نعیم وڑائچ

اردو محفل فورم

جیسے انسان نے ہر شعبے میں نت نئی ایجا دات کی ہیں ویسے ہی ہتھیا روں کی بھی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ نئے نئے طریقے اور مہارتیں- مقصد یہ ہے کہ ہتھیار کی کاٹ کو تیز سے تیز تر اور اس درجہ مہلک کر دیا جائے کہ کوئی دوسرا آپ کے سامنے پر بھی نہ مارے- بات پتھر کے تراشے ہوئے بھالوں سے چلی اور تیر کمان سے ہوتی ہوئی میزائل اور راکٹ تک آ پہنچی- تلواروں کا زمانہ گزرا اورگولی اور بارود نے اپنا رنگ دکھایا – ہائڈروجن بم ، کیمیا ئی گیسیں اور نہ جانے کیا کیا – کوشش یہی ہے کی دوسرے کو مطیع کیا جائے اور اپنا کام نکالا جائے۔

لیکن ایک ہتھیار انسان کے پاس ایسا ہے جو ان سب پہ بھاری ہے- بڑے بڑے شہنشاہ ، جنگجو، اکھڑ مزاج اور طرم خاں اس کے آگے بے بس ہیں- بس اس کا صیح اور بر وقت استعمال آنا چا ہئیے – اور غٖضب تو یہ کہ طریقہ واردات بھی وہ ہی زمانہ قدیم والا ہے- کیا کمال کی کاٹ ہے اور وار ایسا کہ کوئی دم نہیں مارتا- ایسے ایسے کام نکل آتے ہیں جو کسی پستول سے تو کیا توپ سے بھی نہ ہوں- بعض دلیر لوگ تو اڑ جاتے ہیں نہ خنجر سے ڈرتے ہیں نہ گولی سے مگر اس ہتھیار کے آگے رام ہو جاتے ہیں- اور کیا بھلا سا نام رکھا ہے کسی نے ۔ خوشامد ۔ اس کے استعمال میں مہارت رکھنے والا خوشامدی کہلاتا ہے اور کمال مہارت رکھنے والا چاپلوس جو خو شامدی سے تھوڑا آگے کی چیز ہوتا ہے-

اگرچہ ممکن ہے کی قدرت نے ہر انسان کو خوشامد نامی ہتھیار سے لیس کیا ہو لیکن اسے برتنا اور فائدہ اٹھانا ہر کوئی نہیں جانتا- بس خوشامدی ہی جانتا ہے – کہاں ہلکی سی تعریف کرنی ہے اور کہاں آسمان پہ چڑھانا ہے – کس کی چغلی کرنی ہے اور کسے فرشتہ بنانا ہے - صاحب کی کس خوبی کو کس وقت یاد کروانا ہے اور کس کمی کوتاہی کو امر ربی میں چھپانا ہے- کب جوتوں کی تعریف کرنی ہے اور کب بالوں پہ مکھن لگانا ہے- یہ بس خوشامدی ہی جانتا ہے- ایسے ایسے لفظوں اور فقروں کے تیر چلاتے ہیں جو سیدھا مخاطب کے دل میں جا لگتے ہیں – اب ان سے کون بچے اور کیسے بچے جب دل یہ کرتا ہے کہ خوشامدی بولتا چلا جائے اور انسان سنتا چلا جائے- جس تیر کو نشانہ خود تلاش کرے اس کی کاٹ میں کیا بھلا کوئی کمی ہو گی-

آپ گہرے رنگ کے کپڑوں میں بجو لگ رہے ہوں لیکن خوشامدی آپ کی روشنی سے کمرے کو معمور کر دے گا اور ظاہر ہے آپ اس کی جھولی کو خالی تھوڑا رکھیں گیں- آپ سفید رنگ کے سوٹ پہ سرخ رنگ کی ٹائی لگا لیں اور پیلے جوتے پہن لیں پھر بھی خوشامدی آپ کے انتخاب کی ایسے داد دے گا کہ آپ اپنی وجاہت پہ اتراتے پھریں گے- ساری دنیا زیر لب مسکرائے گی اور آپ خوشامد کے وار تلے بے خود اپنے آپ کو خیالی حسینوں کے جھرمٹ میں پائیں گے۔

ارے صاحب ہم اور اپ کس کھیت کی مولی ہیں یہاں تو بڑے بڑے دبنگ بادشاہ ، راجے مہاراجے ، کیا عوام اور کیا خواص سب اس ہتھیار کے محکوم ہیں- دیکھا جائے تو دنیا کے اصل فاتح تو یہی خوشامدی اور چاپلوس ہیں- اور بھلا کیوں نہ ہوں کہ یہ دِلوں کو فتح کرتے ہیں- مجال ہے جو ان کا شکار ان سے دور ہو جائے- لوگوں نے تو جاگیریں تک ان کے نام کر دیں – سلطنتوں سے ہاتھ دھو لئیے – ملکوں کو تباہ و برباد کروا لیا لیکن خوشامدیوں سے دور نہ ہوئے-

طریقہ ہائے واردات بھی بہت دلچسپ ہوتے ہیں- ذرا غور فرمائیں توآپ کو کئی میدانِ کارزار نظر آیئں گے جہاں خوشامد کے تابڑ توڑ معرکے لڑے جا رہے ہوتے ہیں- آج کل کے ٹی وی ٹاک شوز میں کمال کے ہتھیار باز ملیں گے- ایسے ایسے منجھے ہوئے خوشامدی اور چاپلوس اور کہیں شائد ہی نظر آئیں- اپنے اپنے لیڈران کی ایسی ایسی خوبیاں بیان کرتے ہیں کہ اکثر اوقات تو ان کے فرشتہ ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے کہ انسان تو بہر حال خطا کا پتلا ہے- لاکھ کوشش کرے پھر بھی کوئی ایک آدھ غلطی ہو ہی جاتی ہے- ان ہتھیار بازوں کے اصل کمالات تب کھلتے ہیں جب وہ پارٹی بدلتے ہیں – بس پھر کیا – پہلے جس لیڈر سے نظام عالم رواں تھا وہ ہر خرابی کی جڑ ٹھہرا اور جس کے جناب روز لتّے لیتے تھے اسے سر آنکھوں پہ بٹھایا- ہر کوئی اپنے لیڈر کی گڈی دوسرے سے اوپر چڑھانے کی کوشش میں خوشامد کے ایسے ایسے جوھر دکھاتا ہے کہ دیکھنے اور سننے والا بیچارہ شرمندہ ہونے لگتا ہے – مگر مجال ہے جو خوشامدی کے چہرے پہ شرم نام کی کسی چیز کا شائبہ تک بھی محسوس ہو- دراصل جیسے جیسے خوشامد میں مہارت پیدا ہوتی جائے گی شرمندگی کا عنصر خوشامدی سے ختم ہوتا جائے گا-

اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں خاص طور پر لوکل اخبار- چلیں چاند سے بیٹے کی مبارک تو بنتی ہے لیکن نئے ماڈل کی گاڑی پر مبارک باد کے اشتہارات کی تک سوائے اس کے سمجھ نہیں آتی کی صاحبِ سواری کے دل تک براستہ اخبار رسائی حاصل کی جائے- ان اخبارات کو دیکھ کے لگتا ہے کہ ممتاز کاروباری شخصیات اور اعلی سیاسی و مذہبی قائدیں کے ساتھ تصویروں کی اشاعت ہی ہمارا مقصد حیات ہے- کچھ لوگ تو ایسے موقع پر اس فاتحانہ طمطراق سے مسکرا رہے ہوتے ہیں جیسے دم نکلنے سے پہلے آخری خواہش پوری ہو جائے-

ویسے تو خوشامد نامی ہتھیار دنیا کے ہر معاشرے اور تاریخ کے ہر موڑ پر استعمال ہوتا آیا ہے لیکن جہاں لوگ محنت سے زیادہ چاپلوسی پہ یقین رکھتے ہوں وہاں یہ بہت کثرت سے نظر آتا ہے- ہم اپنے ارد گرد پھیلی خوشامد سے اندازہ کر سکتے ہیں یہاں میرٹ پہ کیا گزرتی ہو گی اور فیصلے کس بنیاد پہ ہوتے ہوں گے-

منگل، 16 جولائی، 2019

سر جھکایا تو پتھر صنم بن گئے،


سر جھکایا تو پتھر صنم بن گئے، عشق بھٹکا تو حق آشنا ہو گیا
رشک کرتا ہے کعبہ میرے کُفر پر، میں نے جس بت کو پوجا خدا ہو گیا

گُم رہی ہے کہ معراج ہے عشق کی، اے جنوں بول منزل ہے یہ کونسی،
اس کے گھر کا پتہ پُوچھتے پُوچھتے، پُوچھنے والا خود لاپتہ ہو گیا

وقت، احباب، پرچھائیں، سورج ، کرن، لوگ، دنیا، خوشی، چاندنی ، زندگی،
میرے محبوب اک تیرے غم کے سوا، جو مِلا راستے میں جُدا ہو گیا

میں محبت سے منہ موڑ لیتا اگر، ٹوٹ پڑتی یہ بجلی کسی اور پر
میرے دل کی تباہی سے یہ تو ہوا، کم سے کم دوسروں کا بھَلا ہو گیا

کاروبارِ تمنا میں یہ تو ہوا، اُن کے قدموں پہ مرنے کا موقع ملا
زندگی بھر تو گھاٹا اُٹھاتے رہے، آج پہلی دفعہ فائدہ ہو گیا

ایسا بھٹکا کہ لَوٹا نہیں آج تک، ایسا بِچھڑا کہ آیا نہیں آج تک
دل یہ کمبخت ہے اس قدر باؤلا، آپ کے گھر گیا، آپ کا ہو گیا


ماہر القادری کی ایک اور خوبصورت غزل

ساقی کی نوازش نے تو اور آگ لگا دی
دنیا یہ سمجھتی ہے مری پیاس بجھا دی 

ایک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی 

اس بات کو کہتے ہوئے ڈرتے ہیں سفینے
طوفاں کو خودی دامن ساحل نے ہوا دی 

مانا کہ میں پامال ہوا زخم بھی کھائے
اوروں کے لیے راہ تو آسان بنا دی 

اتنی تو مئے ناب میں گرمی نہیں ہوتی
ساقی نے کوئی چیز نگاہوں سے ملا دی 

وہ چین سے بیٹھے ہیں مرے دل کو مٹا کر
یہ بھی نہیں احساس کہ کیا چیز مٹا دی 

اے باد چمن تجھ کو نہ آنا تھا قفس میں
تو نے تو مری قید کی میعاد بڑھا دی 

لے دے کے ترے دامن امید میں ماہرؔ
ایک چیز جوانی تھی جوانی بھی لٹا دی 

بدھ، 3 اپریل، 2019

مِٹّھو بھٹیارا اشرف صبوحی


میاں مٹھّو کا نام تو کچھ بھلا سا ہی تھا، کریم بخش یا رحیم بخش ٹھیک یاد نہیں، ڈھائی ڈھوئی کے مینہ ایسی سخت بارش جس سے مکان 
گر پڑے تھے۔ سے پہلے کی بات ہے۔ ساٹھ برس سے اوپرہی ہوئے ہوں گے۔ مگر ایک اپنی گلی والے کیا، جو انھیں پکارتا میاں مٹھّو کہہ کر اور انھیں بھیمٹھّو بھٹیارے تھے۔ سرائے کے نہیں۔ دلّی میں محلے محلے جن اسی نام سے بولتے دیکھا۔ میاں مٹھّوکی دکانیں ہوتی ہیں،تنور میں روٹیاں لگتی اور شور با، پائے اور اوجھڑی بکتی ہے۔ نان بائی اور نہاریوالوں سے ان بھٹیاروں کو ذرا نیچے درجے کا سمجھنا چاہیے۔ تنور والے سب ہوتے ہیں۔ نان بائیوں کے ہاں خمیری روٹی پکتی ہے۔ یہ بے خمیر کے پکاتے ہیں۔ ادھر آٹا گندھا اور ادھر روٹیاں پکانی شروع کردیں۔ پراٹھے تو ان کا حصہ ہے۔ بعض تو کمال کرتے ہیں۔ ایک ایک پراٹھے میں دس دس پرت اور کھجلے کی طرح خستہ۔ دیکھنے سے مُنھ میں پانی بھر آئے۔ قورمہ اور کبابوں کے ساتھ کھائیے۔ سبحان اللہ۔ بامن کی بیٹی کلمہ نہ پڑھنے لگے تو ہمارا ذمہ ۔مِٹّھو بھٹیاراکی دکان تھی۔ شیش شاہ تارا کی گلی میں شیش محل کے دروازے سے لگی ہوئی محل کہاں؟ کبھی ہوگا۔ اس وقت تک آثار میں آثار ایک دروازہ وہ بھی اصلی معنوں میں پھوٹاہوا
بہ طور یاد گار۔ اب تو ہمارے دیکھتے دیکھتے وہ بھی صاف ہوگیا۔اس کی جگہ دوسریباقی تھا۔ نمونتہ عمارتیں بن گئیں۔ دروازہ توکیا رہتا، دروازے کے دیکھنے والے بھی دوچار ہی ملیں گے۔ سنا ہےجاڑے گرمی برسات محلےّ بھر میں سب سے پہلے میاں مٹھو کی دکان کھلتی۔ منھ اندھیرے، بغل میں مصالحہ کی پوٹلی وغیرہ سر پر پتیلا، پیٹھ کے اوپر کچھ چھپٹیاں کچھ جھانکڑ لگنی میں بندھے ہوئے
گنگناتے چلے آتے ہیں۔ آئے دکان کھولی، جھاڑو، بہارو کی، تنور کھولا، ہڈیوں گڈیوں یا اوجھڑی کا ہنڈا نکالا۔ ہڈیاں جھاڑیں۔ اس کوٹھی کے دھان اس کوٹھی میں کیے۔ یعنی گھر سے جو پتیلا لائےتھے۔ ہنڈے کا مال اس میں ڈالا۔ مصالحہ چھڑکا اور اپنے دھندے سے لگ گئے۔ سورج نکلتے نکلتےسالن، نہاری، شروا جو کہو درست کرلیا۔ تندور میں ایندھن جھونکا۔ تندور گرم ہوتے ہوتےغریب غربا کام پر جانے والے روٹی پکوانے یا لگاون کے لیے شروا لینے آنے شروع ہوگئے۔ کسی کے ہاتھ میں آٹے کا طباق ہے تو کوئی مٹّی کا پیالہ لیے چلا آتا ہے اور میاں مٹھّو ہیں کہ جھپاجھپ روٹیاں بھی پکاتے جاتے ہیں اور پتیلے میں کھٹا کھٹ چمچا بھی چل رہا ہے۔مٹھو میاں کی اوجھڑی مشہور تھی۔ دو ر دور سے شوقین منگواتے۔ آنتوں اور معدے کے جس مریض کو حکیم اوجھڑی کھانے کو بتاتے وہ یہیں دوڑا چلا آتا۔ کہتے ہیں کہ پراٹھے بھی جیسے میاں مٹھو پکا گئے پھر دّلی میں کسی کو نصیب نہ ہوئے۔ ہاتھ کچھ ایسا منجھا ہوا تھا، تندور کا تاؤ ایسا جانتے تھے کہ مجال ہے جو کچارہے یا جل جائے۔ سرخ جیسے باقر خانی، سموسے کی طرح ہر پرتی سے زیادہ نرم بالکل ملائی۔ کرارا کہو توپاپڑوں کی تھئی۔ کھجلے کو مات کرے۔ پھر
الگ نرم کہو تو لچھئ گھی کھپانے میں وہ کمال کہ پاؤسیر آٹے میں ڈیڑھ پاؤکھپاویں۔ ہر نوالے میں گھی کا گھونٹ اور لطف یہ کہ دیکھنے میں روکھا۔ غریبوں کے پراٹھے بھی ہم نے دیکھے۔ دو پیسے کے گھی میں تربہ تر۔ بہ ظاہر یہی معلوم ہوتا کہ ڈیڑھ پاؤ گھی والے سے دو پیسے والے پر زیادہ رونق ہے، اس ہنر کی بڑی داد یہ ملتی کہ غریب سے غریب بھی پراٹھا پکوا کر شرمندہ نہ ہوتا۔ پوسیری اور چھٹنکی پراٹھے دیکھنے والوں کو یکساں ہی دکھائی دیتے۔ مال دار اور مفلس کا بھید نہ کھلتا۔پچھلے وقتوں میں ہر آدمی اپنی کھال میں رہتا، جس رنگ میں ہوتا وہی رنگ دکھاتا۔ جس
قوم کا ہوتا وہی بتاتا۔ یہ نہیں کہ پیٹ سے زیادہ ملا اور اپھر گئے۔ ہیںاوباش اور صورت ایسی اختیار کی کہ لوگ صوفی کہیں۔ تھے مردھوں میں، اللہ نے کام چلا دیا اب مرزا مغل کی اولاد ہونے میں کیا شک رہا۔ اللہ نے جیسا بنادیا۔ جس پیشے میں رزق اتار دیا۔ جو صورت بنا دی۔ اپنی شخصیت کی جھوٹی نمائش انسان کیوں کرے۔ جہاں ہو، کیا وہاں شرافت نہیں دکھا سکتے؟ حلال خور، چمار، کنجڑے، قصائی سب اپنے اپنے درجے میں شریف ہوتے ہیں۔ اچھے کام کرو، دین داری بھل منسائی کے ساتھ، دوسرے سے پیش آؤ، حرام خوری پر کمر نہ باندھو۔ یہی شرافت ہے۔ جنم کا اولیاکرم کا بھوت، پہلے کپوت، دوجے اچھوت، اونچے خاندان میں سبھی تو فرشتے نہیں ہوتے۔ ایک درخت کے بہت سے پھل ِ کڑکھائے بھی نکل آتے ہیں۔ دھول کوٹ کی بعض کچریاں ایسی مزےدار دیکھو گے کہ لکھنؤ کا چتلا پانی بھرے۔کوئی پچاس برس ہوئے کلن نفیری والا، گل زار بھانڈ، اچپل ہیجڑا، ننواں تیلی، اجلا دھوبی، ببی رنگریز، چپوّ قصائی، چھوٹا گھوسی، امیر نائی، شبّو شہدا، بنّوگور کن، کوڑا بھنگی کہنے کو کمین اور پیشےکے لحاظ سے نیچے تھے مگر ان کی شرافت کیا کہنا؟ پھر خدا نے، انُ کو بڑھایا چڑھایا بھی ایسا ہی تھا۔میاں مٹھّو رہے تو بھٹیارے کے بھٹیارے۔ غریب کو مرتے مرتے گھر کامکان تک نہ جڑا۔بھٹیارے سے نان بائی بھی نہ بنے ۔ سدا اپنے ہاتھ ہی سےتندورجھونکا ۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہجیتے جی کوئی انُ کی طرف انگلی نہ اٹھا سکا۔ کیا مجال کہ کسی طور طریق میں بساندآتی۔ نور کے تڑکےسرجھکائے آنا، ہنس کر بات کرنا اپنے کام سے کام رکھنا اور رات کے بارہ بجے آنکھیں بند کیے چلےجانا۔ آدمی کچھ مشینّ نہ تھے۔ معمولی قد، چھریرا بدن، سر گھٹا ہوا، چندی آنکھیں، پلکیں اڑی ہوئی۔ شاید دھوئیں اور آگ نے آنکھوں اور پلکوں کا یہ درجہ بنا دیا تھا۔ ڈاڑھی کیا بتاؤں۔ جب کبھی ہوگی تو بالکل خصی بکرے کی سی۔ تندور میں جھک کر روٹی لگائی جاتی ہے۔ کوئی کیسا ہی چھپا کا کرے آگ کی لپٹ کہاں چھوڑے۔ جھلستے جھلستے لہسن کی پیندی بن کر رہ گئی تھی۔ ڈاڑھی کا یہ حال تو مونچھوں کا کیا ذکر؟ دلّی میں جب تک شاہی رہی، دن عید رات شب برات تھی۔ ایک کماتاکنبہ بھر کھاتا۔نہ ٹیکس تھے نہ اتنی گرانی۔ ہر چیز سستی غدر کے بعد تک روپے کا پچیس سیر آٹا۔ پکا دو سیر ڈھائی سیرگھی۔ بکری کا اچھے سے اچھا گوشت چار یا چھ پیسے سیر، ترکاریاں پڑی سڑتیں۔کون پوچھتا؟ مکانوں کا کرایہ برائے نام۔ اوّل تو غریب یا امیر سب کے مرنے جینے کے ٹھکانے اپنے الگ۔ پکامحل نہ سہی کچی کھپریل سہی، دوسرے غیر جگہ بسے بھی تو مفت برابر۔ آٹھ آنے، روپے دو روپے حد تین، اس سے زیادہ نہ کوئی دیتا نہ لیتا۔ ان فارغ البالیوں اور راحتوں کے بعد مہینے کے تیس دن میں اکتیس میلے کیوں نہ ہوتے؟ روز ایک نہ ایک تہوار رکھا تھا۔ پھر جو تھا رنگیلا۔ بات بات میں دل کے حوصلے دکھانے اور چھٹی منانے کے بہانے ڈھونڈے جاتے۔ عید کے پیچھے ہفتے بھر تک سیریں منائی جاتیں۔ باغوں میں ناچ ہورہے ہیں۔ دعوتیں اڑ رہی ہیں۔ شب برات آئی، آتش بازی بن رہی ہے۔ وزن سے وزن کا مقابلہ ہے۔ بسنتوں کی بہار دیکھنے کے قابل ہوتی، سورج مکھی کے ارد گرد مرہٹی بازوں کے غول ہیں۔ واہ واہ کا شور ہے۔ آج اس مزار پر پنکھا چڑھا کل اسدرگاہ پر۔ محرم میں سبیلیں سجتیں۔ تعزیہ داریاں ہوتیں، براق نکلتے، اکھاڑے جمتے۔دلّی کی دل والی منھ چکنا پیٹ خالی۔غدر کے بعد کی کہاوت ہے۔ گھر بار لٹ گیا، شاہی اجڑ گئی، سفید پوشی ہی سفید پوشی باقی تھی۔ اندر خانہ کیا ہوتا ہے؟ کوئی کیا جانے باہر کی آب رو جہاںتک سنبھالی جاسکتی سنبھالتے۔ مدتوں پرانی وضع داری کو نبھایا۔ شہر آبادی کی رسمیں پوری کرتے رہے۔ سات دن فاقے کرکے آٹھویں روز پلاؤ کی دیگ ضرور چڑھ جاتی۔ اپنے بس تو باپ دادا کی لکیر چھوڑی نہیں۔ اب زمانہ ہی موافق نہ ہوتو مجبور ہیں۔ فاقے مست کا لقب بھی مسلمانوں
کو قلعے کی تباہی کے بعد ہی ملا ہے۔ اللہ اللہ! ایک حکومت نے کیا ساتھ چھوڑا سارے لچھن جھڑ گئے۔ ہر قدم پر مُنھ کی کھانے لگے۔ اگلے روپ اب تو کہاں دیکھنے میں آتے ہیں۔ کچھ بد نصیبی نے بگاڑے تو کچھ نئی تہذیب سے بدلے۔ اور جو کہیں دکھائی بھی دیں گے تو بالکل ایسے جیسے کوئی سانگ بھرتا ہے۔ دل کی امنگ کے ساتھ نہیں صرف رسماً کھیل تماشا سمجھ کر۔ محرم میں سبیلیں آج بھی رکھی جاتی ہیں۔تعزیہ داری بھی ہوتی ہے مگر دلوں کے حوصلے مر گئے تو زندگی کس بات میں؟ پرانی روحوں کو ثواب پہنچانے کے سوا کچھ نہیں۔ میاں مٹھّو دکان کے آگے دو کورے مٹکے رکھ کر سبیل بھی لگاتے اور برابر کی دکان میں تعزیہ بھی رکھتے۔ ان کے تعزیے میں کوئی ندرت تو نہ ہوتی۔ آرا ئش کا۔ ہاں جو چیز دیکھنے کے قابل تھی وہ ان کی عقیدت یا پ ن والوں سے بنوا لیتے۔ معمولی کھپچیوں اور سوگ دار صورت چاند رات سے جو یہ امام حسین علیہ السلام کے فقیر بنتے تو بارھویں کو حلیم کھاکرکہیں نہاتے دھوتے اور کپڑے بدلتے۔دّلی میں پچاس ساٹھ برس پہلے تک منتوں ، مرادوں کا بڑا زور تھا۔ درگاہوں میں چّلے چڑھتے، مسجدوں کے طاق بھرے جاتے بچوں کے گلوں میں اللہ آمین کے گنڈے ڈالتے، جینے
کے لیے طرح طرح سے منتیں مانی جاتیں، کوئی شاہ مدار کے نام کی چوٹی رکھتا، کوئی حسینی فقیر بناتا۔لوگ کچھ کہیں، جہالت کے عیب لگائیں یا عقیدے کا کچا بتائیں سچ پوچھو تو فارغ البالی کے سارے چونچلے تھے۔ وہ جومثل ہے کہ کیا ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی۔ دل ہی افسردہ ہو اورہاتھ ہی خالی ہوگئے تو جس کام میں جتنی چاہوفی نکال لو۔ خیر! وقت وقت کی راگنیاں ہوتی ہیں۔ مطلب یہ کہ میاں مٹھّو بھی فقیر بنتے تھے۔ بچپن میں ماں باپ نے بنایا ہوگا۔ جوانی میں بد صورت پر بھی کچھ نہ کچھ روپ ہوتا ہے۔ سبز پوشی بھاگئی۔ ہر سال فقیر بننے لگے۔ تعزیہ داری کئی پشتوں سے انکے ہاں ہوتی آئی تھی۔ یہ اپنے بڑوں کی سنّت کیوں ترک کرتے۔ اس کے بعد لوگوں کا بیان ہےکہ انھیں کچھ نظر بھی آیا۔ حضرت عباس کی زیارت بھی ہوئی، اور ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی بار۔یہی سبب تھا کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق سچے دل سے تعزیہ نکالتے اور جو کچھ کرتے بناوٹ سےخالی ہوتا۔ جوانی بھر ان کا یہی طور رہا اور مرتے مرتے اور کچھ ہو نہ ہو تو تعزیہ نکالنا اور فقیر بننا نہ چھوڑا۔ آخر میں غریب کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ دکان پر ایک شاگرد کو بٹھا دیا تھا۔ وہ نالائق نکلا۔ آٹھ آنے روز استاد کو دیتا وہ بھی آٹھ آٹھ آنسو رلاکر۔ تاہم جس طرح بنتا محرم کے لیےانھیں بیس پچیس روپے بچانے لازمی تھے۔ دوستوں کو حلیم کھلاکر فقیری اترتی۔باپ کے مرنے کے بعد میاں مٹھّو نے جب دکان سنبھالی ہے تو ان کی عمر پچیس برس سے کم نہ ہوگی۔ شادی ہوگئی تھی بلکہ دو بچے بھی ہوکر مرگئے تھے۔ باپ کے سامنے بھی یہ گھنٹےدو گھنٹے کے لیے تعزیے کے پاس آکر بیٹھتے لیکن رات کے دس بجے دکان اٹھا کر۔ اب تمام ذمہ داری کا بوجھ ان کے سر پر آپڑا تھا اس لیے چراغ چلتے ہی جلدی جلدی دُکان داری ختم کی۔ پاس کی مسجد میں نہائے۔ سبز تہمد باندھا۔ سبز کرتا پہنا لال، کلاوہ گلے میں ڈالا، جھولی سنبھالی۔ سبز دو پلڑی ٹوپی منڈے ہوئے سر پر جمائی اور تعزیے کے پہلو میں دوزانو آبیٹھے۔ ملنے والوں میں جو سوز، نوحہ، مرثیہ پڑھنے والے ہوتے، آتے اور ثواب کے لیے کچھ پڑھ کر چلے جاتے۔ اب جہاں جہاں اس قسم کی تعزیے داری ہوتی ہے یہی دیکھنے میں آیا ہے۔ انھیں خود بھی سوز پڑھنے کا شوق تھا۔ شوق کیا تعزیہ داری، سبیل لگانے، حسینی فقیر بننے اور تعزیے کے آگے آگے کچھ پڑھنے کو نجات کا باعث سمجھتے تھے۔ آواز تو جیسی بھونڈی تھی، تھی ہی۔ طرہ یہ کہ سلام یا بین جو چیز حضرت پڑھتے وہ بھی سنا گیا کہ آپ ہی کی تصنیف ہوتی۔ لیکن پڑھتے وقت صورت کچھ ایسی سچ مچ کی رونی بناتے اور ایسے جذبے کے ساتھ ادا کرتے کہ سننے والے حضرت امام کی بے کسی کو بھول کر ان پر ترس کھانے لگتے۔محلےّ میں کئی جگہ تعزیے نکلتے اور بڑی کاری گری کے ہوتے۔ مرثیے بھی وہاں خوب خوب پڑھے جاتے مگر بھیڑ جتنی ان کی دکان کے آگے رہتی کہیں نہ رہتی۔ بڈھوں کو رقت چاہیے اوربچوں کو دل لگی۔ یہ دونوں باتیں میاں مٹھّو میں موجود تھیں۔ بڑے بوڑھے تو انھیں کچھ اور ہی سمجھنے لگے تھے۔ جاگتے یا سوتے یہ سقائے سکینہ کی زیارت کرچکے تھے۔ سبز عمامہ باندھے، نقاب ڈالے، نیزہ ہاتھ میں لیے، گھوڑے پر سوار سید الشہدا حضرت امام حسین کو بھی انھوں نے اپنےتعزیے کے سامنے دیکھا تھا۔ یہ اپنا گھڑا ہوا سلام الاپتے اور وہ بیٹھے سر دھنا کرتے۔ لڑکے بالےکچھ توریوڑیوں یا کھیلوں کے لالچ میں جمے رہتے یا ان کی حرکات وسکنات کا تماشا دیکھنے کے لیے۔بے چارے شاعر تو کیا تھے بلکہ کلام مجید بھی پورا نہیں پڑھا تھا۔ جوانی میں چاؤڑی بازاربھی دو چار ہی مرتبہ گئے ہوں گے ورنہ مرثیے کے دوچار بند، سلام کے پانچ سات شعر یا کوئی سوز وہیں سے یاد کر لاتے۔ اب شوق پورا کرنا ٹھہرا۔ گھڑ گھڑا کر ایک سلام بنالیا۔ میرا حافظہ کم بخت ایسا خراب ہے کہ کئی دفعہ سنا اور یاد نہیں رہا۔ حالاں کہ میاں مٹھو اسی سلام کی بدولت بنے۔سلام کہو یا مرثیہ، سوز کہو یا نوحہ کوئی ایسی چیز تھی جس میں بار بار ؎’’نبی جی کے لاڈلوں پر بھیجو سلام‘‘ آتا تھا۔ اور اسی کو وہ سب سے زیادہ لہک لہک کر ادا کرتے تھے۔ اس سے بحث نہیں کہ یہ ناپ تول کے حساب سے کوئی مصرعہ ہے یا کیا۔ افسوس میں نے لکھ کیوں نہ لیا۔ اور اب جسسے پوچھتا ہوں اسی ایک مصرعہ کے سواکچھ نہیں بتاتا۔ اچھا اس مصرعے سے اور میاں مٹھّو کےخطاب سے کیا نسبت؟ آہ دلّی مرحوم! دلّی والوں کی دور بلا، میاں دلّی والے ہی نہ رہے۔ دّلی کا چھ برس کا بچہ تک سمجھ جاتا۔ آخر کریم بخش یارحیم بخش پر میاں مٹھّو کی پھبتی بھی تو بچوں ہی نے کہی تھی۔ ’’نبی جی کے لاڈلوں پر بھیجو سلام‘‘ والا سلام پڑھتے انھیں دوسرا دن تھا کہ محلے کا ایک لڑکا روٹی پکوانے آیا۔ اتفاق سے رات کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ لڑکا انھیں دیکھتا اور مسکراتا رہا۔اکیلا تھا کچھ کہنے کا، ہباؤ نہ پڑا۔ اتنے میں اس کا ایک یار بھی آپہنچا۔ ایک نے دوسرے کو دیکھا۔ میاں مٹھّو کی طرف اشارہ کیا اور دونوں کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ ہنستے ہنستے ایک بولا ’’میاں مٹھو ہیں‘‘ دوسرا کہنے لگا۔ ’’میاں مٹھّو نبی جی بھیجو۔‘‘ دکان پر کھڑے ہونے والے، لونڈوں کی باتوں پر لوٹ لوٹ گئے۔ اب کیا تھا ساری گلی میں ’’میاں مٹھو نبی جی بھیجو‘‘ شروع ہوگیا۔ اس دن سے یہ ایسے میاں مٹھّو بنے کہ لوگوں کو ان کا اصلی نام ہی یاد نہ 
رہا۔ لیکن اللہ بخشے کبھی برانہ مانا اور نہ اپنی وضع بدلی۔ مرتے مرتے اپنا وہی سلام پڑھا۔
 بشکریہ
اردو محفل فورم سید شہزاد ناصر

ہفتہ، 30 مارچ، 2019

ملباری ہوٹل


ملباری ہوٹل ایک زمانے میں پاکستان کے شہر کراچی میں عام ہوتے تھے۔ یہاں کی خصوصیت وہ بیرے ہوتے تھے جو آپ کے بیٹھتے ہی ، سر پر پہونچ جاتے اور میلا کچیلا سا رومال جو وہ اپنے کاندھے پر مخصوص انداز میں لٹکاتے تھے۔
وہ لے کر آپ کی ٹیبل کو پوچھتے ، جسے ٹاکی لگانا بھی کہتے ہیں 
پھر پوچھتے ساب کیا مانگتا
آپ پوچھیں کہ کھانے میں کیا ہے
تو وہ فر فر رٹا ہوا مینو دھراتے
آلو ہے
بینگن ہے
بھنا ہے
قورمہ ہے
کڑاہی گوشت
دال فرائی
وغیرہ
جب آپ کسی ڈش کا آرڈر دے دیتے
تو وہ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے حساب سے پانی کے گلاس اسطرح کنا روں سے اٹھا کرلاتے
کہ انگلیوں کی پوریں پانی میں ڈوبی ہوئ ہوتیں تھین
اگر کھانے کے بجائے صرف چائے کا آڈر دیا جاتا
تو وہ کچن کی کھڑکی کے پاس جاکر ہانک لگاتے
ساب کو دو چائے مارو
یہ خاص بمبئ کی بولی بولتے
یعنی
چائے مارو
پانی مارو
کھایا پیا کچھ نہین گلاس توڑا
ساب بارہ آنا مارو
ان بیروں اور بس کے کنڈکتروں مین ایک بات مشترک تھی
وہ تھی
ان کی زبردست اور حیرت انگیز یاد داشت
جس طرح بس کے کنڈکٹر کوپتہ ہوتا تھا کہ
بھری بس میں کس کا ٹکٹ ہوگیا اور
کس کا رہ گیا
اسی طرح بیروں کویاد ہوتا تھا کس نے کیا کھایا
اور اس نے کاؤنتر پر کتنے پیسے دینے ہین
وہ لوگوں کے آرڈر لینے اور دینے کے دوران
ایک نظر کاؤنٹر پر بھی جما کررکھتے
جیسے ہی گاہک اٹھ کر کئیشیر کے پاس جاتا
جو کہ دروازے کے پاس ہوتا تھا

زور سے اعلان کرتےآگے والے ساب سے بارہ آناپیچھے والے ساب سے ڈیڑھ روپیہ ۔

از مسعود قاضی 
فیس بک شیئرنگ

’’حیا نہیں ہے باقی زمانے کی آنکھ میں‘‘


بے راہ روی اور بے حیائی کے فروغ میں ٹی وی کا بڑا کردار ہے، مغرب کی اندھی تقلید او رمذہب سے بیزاری نے ہمیں غلیظ گڑھے میں پھینک دیا ہے۔
ٹیلی و یژن کبھی کسی زمانے  میںگھر بھر کی تفریح کیساتھ دنیا سے جوڑنے کا سبب تھا۔  اب مغرب کی اندھی تقلید  سے معاشرے کے بگاڑ وبربادی کا سبب بن گیا ہے۔ بے راہ روی  بے حیائی کے فروغ میں ٹی وی کا بہت بڑا کردار  ہے۔ جیسے جیسے چینلز کی تعداد میں اضافہ ہوا بے حیائی بڑھتی گئی۔ہمارے حکمران  چونکہ دین بیزار  ہیں اس لئے   میڈیا کا کوئی قبلہ کوئی  قانون نہیں۔ سو شتر بے مہار کی مانند  جس نے   جو چاہا دکھایا ۔ ننگ پن فحاشی کے وہ مناظر  دکھائے جانے لگے جنہیں  تنہائی  میں دیکھتے ہوئے  بھی شرم آجائے۔
 اینکرو کمپیئر کا دوپٹہ جو سر  سے نہ ہٹتا تھا گزرتے وقت کیساتھ   دوپٹہ ہی نہیں حیا بھی کہیں گم ہوگئی۔ اس وقت چند اسلامی چینلز  کے سوا  ہر ٹی وی  چینل  پر عریانی اور فحاشی کو ایسے فروغ دیا جارہا ہے "جیسے یہ کوئی لازمی ڈیوٹی ہو"
 ایک نجی نیوز چینل نے تو جیسے  حیا کا جنازہ ہی  اٹھا دیا ...   "یوگا " ایکسر سائز کے نام پر لائیو  زلالت کی انتہا کردی جسکے  لیے فحاشی بھی بہت ہلکا لفظ ہے۔سو چیئے ہمارا اخلاقی زوال کس مقام پر پہنچ گیا ہے  مغرب کی اندھی تقلید اور مذہب سے بیزاری نے ہمیں اس غلیظ گڑھے میں لا پھینکا ہے کہ اب  اب ہم  مردو خواتین  باہم کی ایسی ایکسرسائز  بھی دیکھیں گے  جو ایکسرسائز کم  سامان لذت  زیادہ ہے۔   بے حیائی کا شرمناک مظاہرہ  صبح مارننگ شو میں دکھایا گیا۔بے حسی کا یہ عالم ہے کہ  اتنی گندگی اتنی بے حیائی  پر  بھی لوگ احتجاج نہیں کرتے۔   ان پروگرامز کے خلاف کوئی آواز نہیں  اٹھتی ۔
ساحر لودھی کے شو ز ہوں یا  مارننگ شوز ڈرامے  بے حیائی عروج پر ہے۔طوائفیں رول ماڈلز ہوگئیں اور  شرعی حدیں قید قرار پائیں۔محرم رشتوں کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔   آزادی کے نام پریہ کس معاشر ے کی تصویر پیش کی جارہی ہے۔ اصول ہے مارکیٹ میں وہی چیز لانچ کی جاتی ہے جسکی مانگ ہوتو کیا  پاکستانی معاشرہ اس حد تک   بے غیرتی  و بے حیائی کی دلدل میں اتر چکا ہے۔ مرد گھر کا سربراہ  ہے لیکن گھر خاندان کے بگاڑ سنوار کی ذمہ دار عورت ہے۔وہ جیسے چاہے گھر کی فضا بنائے ۔ نسلوں کی تربیت عورت کے ہاتھ میں   ہے۔ معاشرہ  عورت  سے بنتا ہے جس سوچ کی حامل عورت ہوگی معاشرہ اسکا عکاس ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ میڈیا نے عورت کو  ہدف بنایا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ صبح کے ان فحش شوز کے  ویورز کون ہیں۔صبح کی نشریات میں کھانا پکانے میک اپ ، فیشن کے نام پر     مارننگ شوز میں  ہماری اقدار  ہماری تہذیب کو ذبح کیا جارہا ہے اور  فحاشی بے حیا ئی کا یہ زہر قطرہ قطرہ کرکے ہماری خواتین کے دل ودماغ میں اتارا جارہا ہے  جو لباس کل تک شب خوابی   کے لئے بھی پہنتے ہوئی لحاظ رکھتی ہونگی کہ  بچے بڑے بھی گھر میں ہوتے  ہیں کہیں اچانک انکی نظر نہ پڑ جائے وہ آج بازاروں میں  انہی باپ، بھائی ،شوہروں کیساتھ گھومتی پھرتی دعوت نظارہ دیتی ہیں ۔
میڈیا نے عورت کو  ایک بازاری  اور جنس کی تسکین کا سامان بنا  دیا ہے۔ میڈیا کا اصل ٹارگٹ  متوسط طبقے کی خواتین  اور نوجوان نسل   ہیں۔یہ اس میڈیا کی ہی تباہ کاریاں ہیں کہ کچھ سال پہلے تک  آٹھ دس سال کی بچیاں جنھیں صرف کھیل کھلونوں اور گڑیوں کی فکر رہتی تھی آج اپنے ساتھی کلاس فیلوز کو  محبت نامہ لکھ رہی ہیں اور والدین کی روک ٹوک  نہ ملنے  دینے پر یہی بچے خود کشی جیسے انتہائی اقدام بھی اٹھالیتے ہیںیا رشتہ نہ ملنے پر مار دیتے ہیں۔
ہم اپنی اسلامی روایات کو بھول چکے ہیں کہ ہم نے خود ہی اپنی تباہیوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔ دوسروں کے انداز و اطوار کو اپنا کر اور اپنے دینی اصولوں و ضوابط کو بھول کر ہم نے اپنے دین ہی کو فراموش کر دیا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے دینی تصور رکھنے والی جماعتیں بھی میڈیا  کی  اس بے غیرتی  بے حیائی  فحاشی پر خاموش ہیں۔ سنتے ہیں  پیمرا  میڈیا  پالیسی کنٹرول کرتا ہے  اگر پیمرا نامی کوئی  ادارہ ہے  تو یہ شوز کیسے آن ایئرآجاتے ہیں۔کیسے بے حیائی کا پرچار عام کیا جارہا ہے۔بے حیائی کے اس سیلاب کے خلاف آواز اٹھا یئے اس سے پہلے کہ فحاشی بے حیائی کا یہ سیلاب ہمارے گھروں ہماری عزتوں کو بھی  بہا کر لے جائے۔
تحریر بشکریہ ۔
سیما سعید۔ کراچی

 اے شریف انسانو !!!!!!!

 ساحر لدھیانوی صاحب کی ایک  انسانیت کے درد سے لبریز نظم 


خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے

ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میّتوں پہ روتی ہے

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی

اس لئے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

برتری کے ثبوت کی خاطر
خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے

جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں
صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں
حاصلِ زندگی خِرد بھی ہے
حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں

آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں

جنگ، وحشت سے بربریّت سے
امن، تہذیب و ارتقا کے لئے
جنگ، مرگ آفریں سیاست سے
امن، انسان کی بقا کے لئے

جنگ، افلاس اور غلامی سے
امن، بہتر نظام کی خاطر
جنگ، بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن، بے بس عوام کی خاطر

جنگ، سرمائے کے تسلّط سے
امن، جمہور کی خوشی کے لئے
جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن، پُر امن زندگی کے لئے

ساحر لدھیانوی

روداد محفلین کراچی چیپٹر کی تیسری ملاقات منعقدہ سولہ مارچ سنہ دو ہزار انیس کی

اردو محفل فورم کے ساتھ گزری ایک شام کی خوبصورت یادیں ۔


ہم نے صبح اٹھتے ہی اللہ کریم کی حمد ثناء کے بعد پکا والا ارادہ کر لیا تھا کہ آج ہم ہر صورت محفلین کے اس بابرکت اجتماع لازمی شریک ہونا ہے ۔دوران ناشتے بیگم صاحبہ کو اپنے دل کے ارادے سے آگاہ کیا ۔
ناشتے سے فراغت پا کر رزق حلال کی جستجو میں گھر سے روانہ ہوئے ،سارا دن ملازمت کا حق ادا کرتے ذہن میں رات کی ملاقات کا خیال زیر گردش ہی رہا ۔شام سات بجے بج کر چالیس منٹ پر اپنے ساتھیوں کو اللہ حافظ کہہ کر گھر کے لیے روانہ ہوئے ،گھر پہنچ کر بیگم صاحب کی خیریت دریافت کر کے دعوت میں جانے کی تیاری شروع کردی۔
ٹھیک آٹھ پینتالیس پر گھر سے جائے ملاقات کی جانب اپنی موٹر سائیکل پر رخت سفر باندھا۔ کئی مقامات پر ٹریفک کے رش سے واسطہ پڑتا رہا اور نیپا چورنگی کے بعد سے الہ دین پارک تک شدید ترین ٹریفک جام تھا ۔خیر جیسے تیسے رستہ بناتے ہوئے منزل مقصود پر پہنچے اور اللہ کریم کا شکر ادا کیا ۔
بلوچستان سجی ہاوس پر شدید رش کو دیکھا کر پہلا خیال جو دل میں آیا کہ یا اللہ کیا ان لوگوں کے گھروں میں کھانا نہیں پکایا جاتا جو اپنی فیملی کے ہمراہ یہاں مزے سے کھانا تناول فرما رہے ہیں ۔ان ہی خیالات کے ساتھ ساتھ تلاش محفلین بھی جاری تھی ۔
ایک تخت پر ہمیں اپنے اردو محفل کے محفلین کی جماعت نظر آئی ۔ہم نے دور سے ہی خالد بھائی کو ہاتھ کا اشارہ کیا مگر شاید دوری ہونے کے سبب خالد بھائی ہمارا اشارہ نہیں دیکھ سکے ۔اس دوران میں ہم نے اپنی موٹرسائیکل پارکنگ میں کھڑی کی اور دوبارہ تصدیق کے لیے خالد بھائی کو اشارہ کیا ،ان اشارے بازیوں میں ہمیں بھیا کا دیدار نصیب ہوا تو ہم اس جماعت میں شمولیت کی غرض سے تخت کی جانب چل پڑے۔
جماعت میں سب سے پہلے فہیم بھائی سے بغل گیر ہوئے پھر شعیب صفدر بھائی ،احمد بھائی ،اکمل بھائی ، بھیا اور خالد بھائی امین بھائی سے سلام دعا کی اور خیریت دریافت کی ۔
بھیا نے تو ہمیں کہی کا نا چھوڑا، ہمارا استقبال طنز کرتے ہوئے یہ کہہ کر کیا کہ آپ تو نہیں آنے والے تھے اور آگئے آپ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں ۔
خیر ہم نے محفل کے آداب کو مدنظر رکھتے ہوئے بھیا کی بات کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر حلق سے اتارا اور محفلین سے گفتگو میں مصروف ہوگئے ۔کچھ دیر بعد سر محمد خلیل الرحمن بھی تشریف لے آئے ۔
اکمل بھائی، بھیا ،امین بھائی ، خالد بھائی اور ہم خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے ۔اس دوران میں سجی ہاوس کے ویٹر نے رائتہ اور سلاد لاکر رکھا ۔بھیا نے تو باتوں کے دوران ہی سلاد کی پلیٹ خالی کر ڈالی اور ہم حسرت سے دیکھے گئے ، بچی ہوئی پیاز سے ہم نے لطف اٹھایا۔دوران گفتگو محفل کے حوالے سے کئی اہم موضوعات زیر گفتگو رہے ۔اس دوران میں م م مغل صاحب کی آمد ہوئی ،تمام احباب نے گرم جوشی سے م م مغل صاحب کو خوش آمدید کہا ۔ابھی م م مغل صاحب کو خوش آمدید کہہ کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ محترم شاہد بھائی المعروف ٹرومین اردو محفل والے بھی تشریف لے آئے ۔دوبارہ سے میل ملاقات کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔اس کے بعد باقاعدہ گفتگو کا آغاز ہوا بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا کہ گفتگو کا سلسلہ جہاں سے رکا تھا وہاں سے ہی دوبارہ جوڑ دیا گیا ۔اس دوران میں ویٹرز گرم گرم کھانے سجانے میں مصروف ہو گئے اور سب محفلین کھانے میں مصروف ہوگئے دوران کھانے بھی ہلکی پھلکی کی تفریح گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا ،کھانے کے بعد خالد بھائی کی جانب سے محفلین کی تواضح کے لیے چائے کا آڈر جاری کر دیا گیا۔چائے آتے ہی مختصر محفل مشاعرے کا آغاز ہو گیا ۔سب سے پہلے م م مغل صاحب نے محفل کا آغاز کرتے ہوئے اپنی عمدہ شاعری سے محفلین کے قلوب کو گرم ڈالا ۔
م م مغل صاحب کے بعد شمع محفل احمد بھائی کے سامنے رکھی گئی تو انھوں نے بھی اپنی شاندار شاعری مخصوص انداز میں پڑھی کر سنائی ۔اس کے بعد سر خلیل نے اپنا کلام محفلین کے روبرو پیش کی ۔
ٹرومیں بھائی سے ہماری پہلی ملاقات تھی ۔ٹرومین بھائی بہت نفیس اور زبردست شخصیت کے مالک ہیں۔ان سے بھی مختصر گفتگو ہوئی ۔ہمیں ٹرومین بھائی کا انداز گفتگو بہت پسند آیا ۔
سجی ہاوس کی جانب سے محفلین سے تخت خالی کرنے کا آرڈر آیا تو سب اٹھ کھڑے ہوئے ۔یوں محفل ملاقات اپنے جزوی اختتام کی جانب چل پڑی ۔ہم نے اپنے لمبے سفر کی پریشان کا ذکر کیا اور تمام محفلین سے اجازت طلب کر کے گھر کے لیے روانہ ہوگئے ۔
نوٹ ! ہمیں بس اتنا ہی یاد ہے اب اگر احوال لکھنے میں کوئی کمی بیشی ہوئی ہو تو ہم ذمہ دار نہیں ہیں ۔
تفصیل کے لیے لنک ملاحظہ فرمائیں ۔

ہفتہ، 23 مارچ، 2019



ہماری ایک غزل آپ دوستوں کے پیش نظر ۔


دل گرفتہ ہوا میں تجھ سے ملاقات کے بعد
روح بیکل ہی رہی گزرے وہ لمحات کے بعد

یوں تو دشمن تھے مرے سارے زمانے کے خدا
میں تو رسوا ہوا تجھ سے ہوئی اُس مات کے بعد

بےرخی سے تری یہ پایا ہے میں نے انعام
میں تو بے فیض رہا تجھ سے ملاقات کے بعد

جس پہ ہو جاتا فدا کوئی بھی ایسا نہ ملا
نہ تری ذات سے پہلے نہ تری ذات کے بعد

تیرا کہنا تھا کہ دن ایک سے ہوتے نہیں سب
زیست کیسے کروں میں گردش حالات کے بعد

یہ مقدر کا لکھا تھا کہ بچھڑ جاؤں میں
دل میں طوفان اٹھاتے ہوئے جذبات کے بعد​

محمد عدنان اکبری نقیبی
ہماری ایک کاوش آپ مہربانوں کی نظر

!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

 تیری بکھری ہوئی زلفوں کا نظارہ کرتا
اپنی سانسیں تری خوشبو سے نکھارا کرتا

آ ہی جاتا مجھے کچھ تیری وفاؤں کا یقین
مست نظروں سے ذرا تو جو اشارہ کرتا

یوں سجاتا تری یادوں سے میں اپنی خلوت
کہ خیالوں میں ترا حُسن سنوارا کرتا

کبھی رخُسار پہ چھا جاتی اگر قُوس قزح
صدقہ پھولوں کا میں تجھ پر سے اتارا کرتا

حیف واقف نہ ہوا حال سے میرے 'ورنہ
تو مرے ساتھ بھی کچھ وقت گزارا کرتا

ختم کرتا جو تعلّق تو نقیبی سے کبھی 
لیلیٰ لیلیٰ بنا مجنوں وہ پکارا کرتا​

محمد عدنان اکبری نقیبی
تلوار سے کاٹا ہے پھولوں بھری ڈالوں کو

دنیا نے نہیں چاہا ہم چاہنے والوں کو

میں آگ تھا پھولوں میں تبدیل ہوا کیسے

بچوں کی طرح چوما اس نےمیرے گالوں کو

اخلاق، وفا، چاہت سب قیمتی کپڑے ہیں

ہر روز نہ اوڑھا کر ان ریشمی شالوں کو

برسات کا موسم تو لہرانے کا موسم ہے

اڑنے دو ہواؤں میں بکھرے ہوئے بالوں کو

چڑیوں کے لیے چاول پودوں کے لیے پانی

تھوڑی سی محبت دے ہم چاہنے والوں کو

اب راکھ بٹوریں گے الفاظ کے سوداگر

میں آگ پہ رکھ دوں گا نایاب رسالوں کو

مولیٰ مجھے پانی دے، میں نے نہیں مانگا تھا

چاندی کی صراحی کو سونے کے پیالوں کو

بشیر بدر