اردو محفل فورم کے ساتھ گزری ایک شام کی خوبصورت یادیں ۔
ہم نے صبح اٹھتے ہی اللہ کریم کی حمد ثناء کے بعد پکا والا ارادہ کر لیا تھا کہ آج ہم ہر صورت محفلین کے اس بابرکت اجتماع لازمی شریک ہونا ہے ۔دوران ناشتے بیگم صاحبہ کو اپنے دل کے ارادے سے آگاہ کیا ۔
ناشتے سے فراغت پا کر رزق حلال کی جستجو میں گھر سے روانہ ہوئے ،سارا دن ملازمت کا حق ادا کرتے ذہن میں رات کی ملاقات کا خیال زیر گردش ہی رہا ۔شام سات بجے بج کر چالیس منٹ پر اپنے ساتھیوں کو اللہ حافظ کہہ کر گھر کے لیے روانہ ہوئے ،گھر پہنچ کر بیگم صاحب کی خیریت دریافت کر کے دعوت میں جانے کی تیاری شروع کردی۔
ٹھیک آٹھ پینتالیس پر گھر سے جائے ملاقات کی جانب اپنی موٹر سائیکل پر رخت سفر باندھا۔ کئی مقامات پر ٹریفک کے رش سے واسطہ پڑتا رہا اور نیپا چورنگی کے بعد سے الہ دین پارک تک شدید ترین ٹریفک جام تھا ۔خیر جیسے تیسے رستہ بناتے ہوئے منزل مقصود پر پہنچے اور اللہ کریم کا شکر ادا کیا ۔
بلوچستان سجی ہاوس پر شدید رش کو دیکھا کر پہلا خیال جو دل میں آیا کہ یا اللہ کیا ان لوگوں کے گھروں میں کھانا نہیں پکایا جاتا جو اپنی فیملی کے ہمراہ یہاں مزے سے کھانا تناول فرما رہے ہیں ۔ان ہی خیالات کے ساتھ ساتھ تلاش محفلین بھی جاری تھی ۔
ایک تخت پر ہمیں اپنے اردو محفل کے محفلین کی جماعت نظر آئی ۔ہم نے دور سے ہی خالد بھائی کو ہاتھ کا اشارہ کیا مگر شاید دوری ہونے کے سبب خالد بھائی ہمارا اشارہ نہیں دیکھ سکے ۔اس دوران میں ہم نے اپنی موٹرسائیکل پارکنگ میں کھڑی کی اور دوبارہ تصدیق کے لیے خالد بھائی کو اشارہ کیا ،ان اشارے بازیوں میں ہمیں بھیا کا دیدار نصیب ہوا تو ہم اس جماعت میں شمولیت کی غرض سے تخت کی جانب چل پڑے۔
جماعت میں سب سے پہلے فہیم بھائی سے بغل گیر ہوئے پھر شعیب صفدر بھائی ،احمد بھائی ،اکمل بھائی ، بھیا اور خالد بھائی امین بھائی سے سلام دعا کی اور خیریت دریافت کی ۔
بھیا نے تو ہمیں کہی کا نا چھوڑا، ہمارا استقبال طنز کرتے ہوئے یہ کہہ کر کیا کہ آپ تو نہیں آنے والے تھے اور آگئے آپ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں ۔
خیر ہم نے محفل کے آداب کو مدنظر رکھتے ہوئے بھیا کی بات کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر حلق سے اتارا اور محفلین سے گفتگو میں مصروف ہوگئے ۔کچھ دیر بعد سر محمد خلیل الرحمن بھی تشریف لے آئے ۔
اکمل بھائی، بھیا ،امین بھائی ، خالد بھائی اور ہم خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے ۔اس دوران میں سجی ہاوس کے ویٹر نے رائتہ اور سلاد لاکر رکھا ۔بھیا نے تو باتوں کے دوران ہی سلاد کی پلیٹ خالی کر ڈالی اور ہم حسرت سے دیکھے گئے ، بچی ہوئی پیاز سے ہم نے لطف اٹھایا۔دوران گفتگو محفل کے حوالے سے کئی اہم موضوعات زیر گفتگو رہے ۔اس دوران میں م م مغل صاحب کی آمد ہوئی ،تمام احباب نے گرم جوشی سے م م مغل صاحب کو خوش آمدید کہا ۔ابھی م م مغل صاحب کو خوش آمدید کہہ کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ محترم شاہد بھائی المعروف ٹرومین اردو محفل والے بھی تشریف لے آئے ۔دوبارہ سے میل ملاقات کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔اس کے بعد باقاعدہ گفتگو کا آغاز ہوا بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا کہ گفتگو کا سلسلہ جہاں سے رکا تھا وہاں سے ہی دوبارہ جوڑ دیا گیا ۔اس دوران میں ویٹرز گرم گرم کھانے سجانے میں مصروف ہو گئے اور سب محفلین کھانے میں مصروف ہوگئے دوران کھانے بھی ہلکی پھلکی کی تفریح گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا ،کھانے کے بعد خالد بھائی کی جانب سے محفلین کی تواضح کے لیے چائے کا آڈر جاری کر دیا گیا۔چائے آتے ہی مختصر محفل مشاعرے کا آغاز ہو گیا ۔سب سے پہلے م م مغل صاحب نے محفل کا آغاز کرتے ہوئے اپنی عمدہ شاعری سے محفلین کے قلوب کو گرم ڈالا ۔
م م مغل صاحب کے بعد شمع محفل احمد بھائی کے سامنے رکھی گئی تو انھوں نے بھی اپنی شاندار شاعری مخصوص انداز میں پڑھی کر سنائی ۔اس کے بعد سر خلیل نے اپنا کلام محفلین کے روبرو پیش کی ۔
ٹرومیں بھائی سے ہماری پہلی ملاقات تھی ۔ٹرومین بھائی بہت نفیس اور زبردست شخصیت کے مالک ہیں۔ان سے بھی مختصر گفتگو ہوئی ۔ہمیں ٹرومین بھائی کا انداز گفتگو بہت پسند آیا ۔
سجی ہاوس کی جانب سے محفلین سے تخت خالی کرنے کا آرڈر آیا تو سب اٹھ کھڑے ہوئے ۔یوں محفل ملاقات اپنے جزوی اختتام کی جانب چل پڑی ۔ہم نے اپنے لمبے سفر کی پریشان کا ذکر کیا اور تمام محفلین سے اجازت طلب کر کے گھر کے لیے روانہ ہوگئے ۔
نوٹ ! ہمیں بس اتنا ہی یاد ہے اب اگر احوال لکھنے میں کوئی کمی بیشی ہوئی ہو تو ہم ذمہ دار نہیں ہیں ۔
ٹھیک آٹھ پینتالیس پر گھر سے جائے ملاقات کی جانب اپنی موٹر سائیکل پر رخت سفر باندھا۔ کئی مقامات پر ٹریفک کے رش سے واسطہ پڑتا رہا اور نیپا چورنگی کے بعد سے الہ دین پارک تک شدید ترین ٹریفک جام تھا ۔خیر جیسے تیسے رستہ بناتے ہوئے منزل مقصود پر پہنچے اور اللہ کریم کا شکر ادا کیا ۔
بلوچستان سجی ہاوس پر شدید رش کو دیکھا کر پہلا خیال جو دل میں آیا کہ یا اللہ کیا ان لوگوں کے گھروں میں کھانا نہیں پکایا جاتا جو اپنی فیملی کے ہمراہ یہاں مزے سے کھانا تناول فرما رہے ہیں ۔ان ہی خیالات کے ساتھ ساتھ تلاش محفلین بھی جاری تھی ۔
ایک تخت پر ہمیں اپنے اردو محفل کے محفلین کی جماعت نظر آئی ۔ہم نے دور سے ہی خالد بھائی کو ہاتھ کا اشارہ کیا مگر شاید دوری ہونے کے سبب خالد بھائی ہمارا اشارہ نہیں دیکھ سکے ۔اس دوران میں ہم نے اپنی موٹرسائیکل پارکنگ میں کھڑی کی اور دوبارہ تصدیق کے لیے خالد بھائی کو اشارہ کیا ،ان اشارے بازیوں میں ہمیں بھیا کا دیدار نصیب ہوا تو ہم اس جماعت میں شمولیت کی غرض سے تخت کی جانب چل پڑے۔
جماعت میں سب سے پہلے فہیم بھائی سے بغل گیر ہوئے پھر شعیب صفدر بھائی ،احمد بھائی ،اکمل بھائی ، بھیا اور خالد بھائی امین بھائی سے سلام دعا کی اور خیریت دریافت کی ۔
بھیا نے تو ہمیں کہی کا نا چھوڑا، ہمارا استقبال طنز کرتے ہوئے یہ کہہ کر کیا کہ آپ تو نہیں آنے والے تھے اور آگئے آپ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں ۔
خیر ہم نے محفل کے آداب کو مدنظر رکھتے ہوئے بھیا کی بات کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر حلق سے اتارا اور محفلین سے گفتگو میں مصروف ہوگئے ۔کچھ دیر بعد سر محمد خلیل الرحمن بھی تشریف لے آئے ۔
اکمل بھائی، بھیا ،امین بھائی ، خالد بھائی اور ہم خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے ۔اس دوران میں سجی ہاوس کے ویٹر نے رائتہ اور سلاد لاکر رکھا ۔بھیا نے تو باتوں کے دوران ہی سلاد کی پلیٹ خالی کر ڈالی اور ہم حسرت سے دیکھے گئے ، بچی ہوئی پیاز سے ہم نے لطف اٹھایا۔دوران گفتگو محفل کے حوالے سے کئی اہم موضوعات زیر گفتگو رہے ۔اس دوران میں م م مغل صاحب کی آمد ہوئی ،تمام احباب نے گرم جوشی سے م م مغل صاحب کو خوش آمدید کہا ۔ابھی م م مغل صاحب کو خوش آمدید کہہ کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ محترم شاہد بھائی المعروف ٹرومین اردو محفل والے بھی تشریف لے آئے ۔دوبارہ سے میل ملاقات کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔اس کے بعد باقاعدہ گفتگو کا آغاز ہوا بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا کہ گفتگو کا سلسلہ جہاں سے رکا تھا وہاں سے ہی دوبارہ جوڑ دیا گیا ۔اس دوران میں ویٹرز گرم گرم کھانے سجانے میں مصروف ہو گئے اور سب محفلین کھانے میں مصروف ہوگئے دوران کھانے بھی ہلکی پھلکی کی تفریح گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا ،کھانے کے بعد خالد بھائی کی جانب سے محفلین کی تواضح کے لیے چائے کا آڈر جاری کر دیا گیا۔چائے آتے ہی مختصر محفل مشاعرے کا آغاز ہو گیا ۔سب سے پہلے م م مغل صاحب نے محفل کا آغاز کرتے ہوئے اپنی عمدہ شاعری سے محفلین کے قلوب کو گرم ڈالا ۔
م م مغل صاحب کے بعد شمع محفل احمد بھائی کے سامنے رکھی گئی تو انھوں نے بھی اپنی شاندار شاعری مخصوص انداز میں پڑھی کر سنائی ۔اس کے بعد سر خلیل نے اپنا کلام محفلین کے روبرو پیش کی ۔
ٹرومیں بھائی سے ہماری پہلی ملاقات تھی ۔ٹرومین بھائی بہت نفیس اور زبردست شخصیت کے مالک ہیں۔ان سے بھی مختصر گفتگو ہوئی ۔ہمیں ٹرومین بھائی کا انداز گفتگو بہت پسند آیا ۔
سجی ہاوس کی جانب سے محفلین سے تخت خالی کرنے کا آرڈر آیا تو سب اٹھ کھڑے ہوئے ۔یوں محفل ملاقات اپنے جزوی اختتام کی جانب چل پڑی ۔ہم نے اپنے لمبے سفر کی پریشان کا ذکر کیا اور تمام محفلین سے اجازت طلب کر کے گھر کے لیے روانہ ہوگئے ۔
نوٹ ! ہمیں بس اتنا ہی یاد ہے اب اگر احوال لکھنے میں کوئی کمی بیشی ہوئی ہو تو ہم ذمہ دار نہیں ہیں ۔
تفصیل کے لیے لنک ملاحظہ فرمائیں ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں