ہفتہ، 23 مارچ، 2019

تلوار سے کاٹا ہے پھولوں بھری ڈالوں کو

دنیا نے نہیں چاہا ہم چاہنے والوں کو

میں آگ تھا پھولوں میں تبدیل ہوا کیسے

بچوں کی طرح چوما اس نےمیرے گالوں کو

اخلاق، وفا، چاہت سب قیمتی کپڑے ہیں

ہر روز نہ اوڑھا کر ان ریشمی شالوں کو

برسات کا موسم تو لہرانے کا موسم ہے

اڑنے دو ہواؤں میں بکھرے ہوئے بالوں کو

چڑیوں کے لیے چاول پودوں کے لیے پانی

تھوڑی سی محبت دے ہم چاہنے والوں کو

اب راکھ بٹوریں گے الفاظ کے سوداگر

میں آگ پہ رکھ دوں گا نایاب رسالوں کو

مولیٰ مجھے پانی دے، میں نے نہیں مانگا تھا

چاندی کی صراحی کو سونے کے پیالوں کو

بشیر بدر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں