جمعرات، 29 اکتوبر، 2020

 

 پرمزاح غزل


اپنے ہر درد کا امکان ہٹائے رکھا 
جھاڑو بیلن کو بھی زوجہ سے چھپائے رکھا

پاسِ ناموسِِ خداوند، جو خاوند ہے، کہ تھا
سارا احوال دھنائی کا چھپائے رکھا

ایک اندیشۂ ناقدریِ عالَم نے مجھے
عمر بھر زوجہ کے قدموں میں بچھائے رکھا

کبھی جانے نہ دی آواز ہی گھر سے باہر
مار کھاتا رہا ،منہ اپنا دبائے رکھا

دیکھ کر برہنہ پا شہر کے لوگوں نے مجھے
رشکِ گلشن مرے رستے کو بنائے رکھا

اصل کردار تماشے کے وہی لوگ تو تھے
ساس، سالی کو تماشائی بنائے رکھا

 

منگل، 16 جون، 2020


ہمیں لڑنا نہیں ہمیں ڈرنا ہے


ہمیں ڈرنا نہیں ہے ہمیں لڑنا ہے،
پچھلے چند ماہ سے کرونا وائرس سے حفاظتی اقدامات کے لیے یہ اشتہاری سلسلہ تقریبا سب ہی کی نظر سے گزرا ہو گا اور جن لوگوں کی نظر سے نہیں گزرا تو وہ بے شک دنیا کے خوش نصیب لوگ ہیں۔
لیکن آپ یہ سن کر حیران و پریشاں ہوں گے کہ ہمارا نعرہ ذرا مختلف ہے۔ جی ہاں! ہمارا ایسا ماننا ہے کہ " ہمیں لڑنا نہیں ہمیں ڈرنا ہے" اس میں ہی ہم سب شوہر حضرات کی فلاح و بہبود ہے۔
آپ لوگوں نے یہ مثال تو ضرور سنی ہو گی کہ"جس نے جیسا پرکھا، اس نے ویسا پایا " ۔
حیران ہو گئے ناں! کہ ایک طرف لاک ڈاؤن کا جبری تسلسل اور دوسرے جانب ایسا ولولہ انگیز نعرہ ۔
یقین مانیے کہ سرکار وقت نے زندگی کو عجیب ہی دو راہے پر لاکھڑا کیا ہے۔گھر سے باہر جاتے ہیں تو وائرس کی لیپٹ میں آنے کے ساتھ پولیس کی مار کا خطرہ(بلکہ مار سے زیادہ سب کے سامنے اٹھک بیٹھک اور مرغا بننے کا خطرہ)، اور اگر گھر میں خود کو لاک کر کے رکھیں تو گھر کی سرکار سے فساد کا خطرہ۔
خدا جانے یہ ہمارے کن کرموں کا پھل ہے جو سود سمیت ہم ادا کیے جا رہے ہیں ۔
اللہ بخشے ہمارے دادا مرحوم اکثر و بیشتر ہماری نالائقی پر ہمیں اس مثال سے نوازا کرتے تھے،" گھر کا نہ گھاٹ کا دشمن اناج کا "مگر اب موجود حالات میں ہم نے بہت غور و فکر کیا کہ شاید ہماری نالائقی کے شواہد ملیں اور ہم اپنے دل بے چین کو مطمئن کر سکیں مگر نا جی۔ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر ہم یہ اقرار کر رہے ہیں کہ انسان خطاء کا پتلا ہے غلطی ہو ہی جاتی ہے ۔
ہم نے تو یہ بھی سن رکھا ہے کہ نظر بند قیدی کے آرام و آسائش کا ذمہ سرکار کے سر ہوتا ہے مگر ہمارے گھر کی سرکار بھارت کی طرح کان لپیٹے اپنی من مانی پہ تلی رہتی ہیں۔ مجال ہے جو ذرا بھی اقوام متحدہ کی قرارداد پر دھیان دیں۔
بس اب تو یہی دعا ہر دم لبوں پہ رہتی ہے کہ یا اللہ اٹھا لے ۔
ارے دعا تو پوری سن لیں آپ نے پہلے ہی آمین کی صدا بلند کر دی۔
ہم مانتے ہیں کہ دکھ درد سب کے سانجھے ہوتے ہیں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مان چاہی مراد پلک جھپکتے ہی پوری ہو جائے۔
یااللہ اقوام عالم پر یہ کرونا وائرس جو مسلط ہے اس کو دنیا سے اٹھا لے تاکہ سرکار وقت لاک ڈاؤن اٹھا لے اور ہمارے جیسے تیرے 
معصوم اور مظلوم بندے دوبارہ سے آزادی کے ساتھ جی سکیں۔آمین
تحریر از محمد عدنان اکبری نقیبی

جمعہ، 29 مئی، 2020


ناموں کی انوکھی لغت

 !!! انسان بھی عجیب مخلوق ہے
اکثر اوقات درست بات کو بھی غلط سمجھ بیٹھتا ہے اور یہ غلط فہمی شعور اور لاشعور کے عمل دخل کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اکثر لاپروائی میں کہی گئی بات معنوی اعتبار سے تو درست ہوتی ہے مگر موقع محل کے لحاظ سے مناسب نہیں ہوتی۔
اب آپ کہیں گے کہ میں الجھائے دے رہا ہوں اور اصل بات کی طرف نہیں آرہا۔ تو قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے ایک دوست کو اللہ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ پہلی اولاد اور وہ بھی بیٹا۔ ہمارے معاشرے کے رکن ہونے کے ناطے آپ بخوبی ان کی خوشی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ان کے خاندان میں خوب خوشیاں منائی اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔
بچے کے نام کے سلسلہ میں پورا گھرانہ سر جوڑ کے بیٹھ گیا ، سب اپنی اپنی پسند کے مطابق صاحبزادے کے لیے نام تجویز کرنے لگے لیکن کسی نام پہ اتفاق نہ ہو سکا۔ ہمارے دوست کا دل بھی کسی نام پہ نہ ٹھکا۔
جب ہمارے گھر مٹھائی لائے تو ہم نے بہت گرم جوشی سے ان کو مبارکباد دی اور صاحبزادے کو دعاؤں سے نوازا۔انہوں نے نام رکھنے کے معاملے کا ذکر ہم سے کیا۔موصوف فرمانے لگے کہ آپ انٹرنیٹ پر مصروف رہتے ہیں۔شاعری اور اردو ادب سے لگاؤ ہونے کی وجہ سے کئی علمی شخصیات سے سلام دعا بھی ہے، ہو سکے تو صاحبزادے کے نام کے سلسلے میں مدد فرمائیں۔
ہم نے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی اور اچانک ہمارے زرخیز ذہن میں ایک تجویز آئی جو ہم نے فوراً سے پیشتر ان کے گوش گذار بھی کر دی۔
ہم نے انھیں مشورہ دیا کہ نام کے انتخاب کے لیے وہ اپنے گھر کے قریبی قبرستان کا چکر لگالیں،مختلف ناموں کے کتبے قبروں پر جا بجا لگے ہوتے ہیں،دنیا کے بہترین ناموں کی لغت شاید ہی آپ کو کہیں اور مل سکے۔ایک سے ایک خوبصورت نام آپ کو وہاں لکھا نظر آئے گا۔ناموں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ آپ کو درس عبرت کا سبق بھی مل جائے گا اور اہل قبور پر فاتحہ پڑھنے کا ثواب الگ میسر آئے گا۔ گویا نام کے نام، گٹھلیوں کے دام۔
ہماری تجویز سن کر نہ جانے کیوں ان کی حالت ایسی ہو گئی کہ جیسے ہم نے ان کی دم پر انجانے میں پاؤں رکھ دیا ہو۔وہ ہمیں غصہ اور دکھ کی ملی جلی کیفیت سے یوں تکنے لگے کہ اگر ان کے بس میں ہو تو ہمارا سر قلم کر کے ہمیں درجہ شہادت سے فیضیاب کر دیں۔ ہم نے تو اپنی جانب سے بہت ہی علمی اور معرفت سے معمور تجویز ان کے گوش گذار کی تھی۔
بہرحال وہ ہمارا سر تو قلم نہ کر سکے لیکن تجویز سنتے ہی ایسے رخصت ہوئے کہ آج تک ہم اپنے دوست کے رخ یار کے درشن سے محروم ہیں۔

تحریر از محمد عدنان اکبری نقیبی