پرمزاح غزل
اپنے ہر درد کا امکان ہٹائے رکھا
جھاڑو بیلن کو بھی زوجہ سے چھپائے رکھاپاسِ ناموسِِ خداوند، جو خاوند ہے، کہ تھاسارا احوال دھنائی کا چھپائے رکھاایک اندیشۂ ناقدریِ عالَم نے مجھےعمر بھر زوجہ کے قدموں میں بچھائے رکھاکبھی جانے نہ دی آواز ہی گھر سے باہرمار کھاتا رہا ،منہ اپنا دبائے رکھادیکھ کر برہنہ پا شہر کے لوگوں نے مجھےرشکِ گلشن مرے رستے کو بنائے رکھااصل کردار تماشے کے وہی لوگ تو تھےساس، سالی کو تماشائی بنائے رکھا